LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی دھمکیاں اور ایران کا دوٹوک مؤقف، تفصیلی جائزہ

News Image
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر پابندیوں کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ان دھمکیوں کو امریکہ کے اپنے داخلی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر پابندیوں یا سزاؤں کی تازہ دھمکیوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ تہران کی طرف سے جاری کردہ بیان میں ان دھمکیوں کو امریکہ کے اندرونی اور بحران زدہ حالات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کا ایک حربہ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی سطح پر تجارتی شراکت داروں کے لیے بھی نئی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے دیگر خود مختار ممالک کو تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے پر مجبور کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ چین اور کئی دیگر ممالک پہلے ہی ایران کے ساتھ اپنے معاشی اور تجارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں اور وہ واشنگٹن کے دباؤ کے باوجود اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس تنازع کے نتیجے میں بین الاقوامی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں بھی نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا امریکہ دنیا بھر میں اپنی تجارتی پابندیوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس طرح کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا اور اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ تجارتی و معاشی تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کو خطے میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ماضی میں بھی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عالمی سطح پر یہ صورتحال آنے والے دنوں میں سفارتی محاذ پر مزید ہلچل کا باعث بن سکتی ہے۔