World
شام میں ترک فوجی موجودگی: شامی وزیرِ خارجہ کا اہم بیان
شام کے وزیرِ خارجہ نے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ ملک میں ترک فوجی موجودگی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ترک فوجی اہلکاروں کا فضائی اڈے کا دورہ صرف تربیتی مقاصد کا حصہ تھا۔
شام کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک کے اندر ترکی کی مستقل فوجی موجودگی قائم کرنے کا کوئی ارادہ یا منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی اور عسکری سطح پر مختلف قسم کی چہ مگوئیاں جاری تھیں اور مبصرین کی جانب سے اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی تھی۔
شام کے وزیرِ خارجہ نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران اس بات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ حال ہی میں ترک فوجی حکام نے ایک اہم شامی فضائی اڈے کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے اس دورے کی نوعیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ آمد و رفت اور دورہ کسی عسکری اڈے کے قیام یا قبضے کے لیے نہیں تھا، بلکہ یہ مکمل طور پر پیشہ ورانہ تربیت اور باہمی تعاون کے امور کا ایک حصہ تھا۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ شام اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو اولین ترجیح دیتا ہے اور ملک کے اندر کسی بھی غیر ملکی عسکری موجودگی کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔ اس نوعیت کے دورے اور رابطے معمول کی سفارتی اور عسکری کارروائیوں کا حصہ ہوتے ہیں جنہیں غلط رنگ نہیں دینا چاہیے۔
خطے کے سیاسی اور عسکری ماہرین اس بیان کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور افواہوں کا قبل از وقت سدباب کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دے رہے ہیں۔ شام اور ترکی کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اس طرح کی وضاحتیں دونوں ممالک کی آئندہ کی سفارتی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔