LIVE
Loading Breaking News...

جے یو آئی ایف اور اپوزیشن جماعتوں کا متحدہ اپوزیشن بنانے کا فیصلہ

News Image
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن رہنماؤں نے پارلیمنٹ میں ایک مضبوط متحدہ اپوزیشن بنانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اسلام آباد میں جمعرات کے روز ایک اہم سیاسی پیشرفت کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان ایک ملاقات ہوئی جس میں پارلیمنٹ کے اندر ایک "متحدہ اپوزیشن" بنانے پر اتفاق رائے ہو گیا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے ترجمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور، اپوزیشن جماعتوں کے درمیان باہمی تعاون اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومتی رویے اور اپوزیشن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ قائدین کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے اندر اپوزیشن کی آواز کو دبایا نہیں بلکہ سنا جاتا ہے۔ ملاقات کے دوران حکومت کی پالیسیوں، پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے فعال کردار اور آئین و جمہوریت کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مزید موثر بنانے اور پارلیمانی سطح پر مشترکہ موہ اختیار کرنے کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گی اور ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ ملاقات کے دوران تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت کے معاملے پر بھی انتہائی سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا گیا اور اپوزیشن رہنماؤں نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سابق وزیراعظم کی صحت کے مسئلے پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے اور انہیں طبی و انسانی بنیادوں پر فوری سہولیات ملنی چاہئیں۔ ملاقات میں پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت جے یو آئی ایف اور اپوزیشن اتحاد کے دیگر سرکردہ ارکان بھی شریک تھے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تصدیق کی کہ اپوزیشن جماعتوں کی یہ پہلی باضابطہ ملاقات تھی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک بھرپور متحدہ اپوزیشن بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک ابتدائی سیشن تھا اور اس پر مزید مشاورت کا عمل جاری رہے گا تاکہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید اشارہ دیا کہ تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے اور رابطے مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ایک آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے انعقاد پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی تھی جس میں پارلیمانی امور پر بات چیت کی گئی تھی۔