LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ پناہ گزین کنونشن 75 ویں سالگرہ اور چیلنجز

News Image
اقوام متحدہ کا پناہ گزینوں کا تاریخی کنونشن اپنی پچھتر ویں سالگرہ منا رہا ہے تاہم اسے مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے تارکین وطن مخالف جذبات کی وجہ سے شدید بحران کا سامنا ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ اور پناہ گزینوں کے حقوق کے حوالے سے اس معاہدے کی بقا پر اب سوالیہ نشان لگائے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کا 1951 کا پناہ گزین کنونشن اس ہفتے اپنی تشکیل کے پچھتر سال مکمل کر رہا ہے، لیکن تاریخی اہمیت کے حامل اس معاہدے کو آج اپنے وجود کی بقا کی سب سے بڑی جنگ کا سامنا ہے۔ مغربی ممالک میں تارکین وطن کے خلاف بڑھتے ہوئے رجحانات اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے اس بین الاقوامی قانون کی روح کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہ کنونشن دوسری جنگ عظیم کے بعد لاکھوں بے گھر افراد کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، جس نے دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے بنیادی حقوق کے تعین میں سنگ میل کا کردار ادا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والے تنازعات اور معاشی بحرانوں کے باعث نقل مکانی کے رحجان میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، جس نے روایتی پناہ کی پالیسیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مغربی دنیا کے کئی ممالک اب سخت سرحدی سیکیورٹی اور امیگریشن قوانین کے نفاذ پر زور دے رہے ہیں، جس سے پناہ گزینوں کے عالمی فریم ورک کی کمزوری کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس عالمی معاہدے کو سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھایا گیا، تو اس سے دنیا بھر میں انسانی المیہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اس کنونشن پر عمل درآمد کو یقینی بنانا صرف قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اخلاقی تقاضا بھی ہے۔ موجودہ عالمی سیاسی منظرنامے میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ تاریخی کنونشن موجودہ دور کے غیر یقینی چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے زندہ رہ سکے گا یا نہیں۔