LIVE
Loading Breaking News...

مائیکرون کی بوائز میں 10 بلین ڈالر کی نئی اے آئی ریسرچ لیب

News Image
مائیکرون ٹیکنالوجی نے امریکہ کے شہر بوائز میں ایک نئی اور جدید ترین اے آئی میموری ریسرچ لیب قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دس بلین ڈالر مالیت کی اس تنصیب کا مقصد مصنوعی ذہانت کے لیے میموری چپس کی ترقی کو تیز کرنا ہے۔
مشہور امریکی سیمی کنڈکٹر کمپنی مائیکرون ٹیکنالوجی نے اپنے آبائی شہر بوائز، ایڈاہو میں مصنوعی ذہانت (AI) کی میموری ریسرچ کے لیے دس بلین ڈالر کی خطیر رقم سے ایک نئی ریسرچ لیبارٹری قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اہم منصوبے کا مقصد جدید ترین میموری ٹیکنالوجیز کی تیاری کو یقینی بنانا ہے جو آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکیں۔ کمپنی کے مطابق یہ لیب جدید ترین سیمی کنڈکٹر تحقیق میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی اور اس کے ذریعے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبے میں انقلاب برپا کیا جائے گا۔ حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں جس تیزی سے ترقی ہوئی ہے، اس کی وجہ سے طاقتور ہارڈ ویئر اور تیز رفتار میموری کی مانگ میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مائیکرون کی جانب سے اس نئی لیب کا قیام اسی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ اے آئی ماڈلز کو چلانے کے لیے درکار ڈیٹا کو انتہائی تیز رفتاری سے پراسیس کیا جا سکے۔ اس ریسرچ لیب میں دنیا بھر سے بہترین انجینئرز اور سائنسدان خدمات انجام دیں گے جو میموری چپ سازی کے نئے اور جدید طریقوں پر تحقیق کریں گے۔ معاشی اور صنعتی ماہرین نے اس دس بلین ڈالر کے منصوبے کو سراہتے ہوئے اسے سیمی کنڈکٹر کی صنعت کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ امریکہ کی تکنیکی برتری بھی عالمی سطح پر مزید مستحکم ہوگی۔ مائیکرون کو امید ہے کہ اس تحقیق کی بدولت آئندہ نسل کے سسٹمز میں میموری کی استعداد کار کئی گنا بڑھ جائے گی، جو کہ مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔