LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں آسٹریلوی امدادی کارکن ہلاکت: اسرائیل کے فیصلے پر آسٹریلیا برہم

News Image
آسٹریلیا نے غزہ میں اپنے امدادی کارکن زومی فرینکم کی ہلاکت پر اسرائیل کی جانب سے فوجداری تحقیقات نہ کرنے کے فیصلے پر شدید غصے اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اس تنازع کے بعد آسٹریلوی حکومت نے معاملے پر سخت سفارتی مؤقف اپناتے ہوئے اسرائیلی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔
آسٹریلیا نے غزہ میں اپنے امدادی کارکن زومی فرینکم کی ہلاکت کے واقعے پر اسرائیل کی جانب سے باضابطہ فوجداری تحقیقات شروع نہ کرنے کے فیصلے پر شدید غم و غصے اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے اور آسٹریلوی حکومت نے معاملے پر سخت سفارتی لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے اسرائیلی سفیر کو فوری طور پر طلب کر لیا ہے۔ آسٹریلوی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انصاف کا حصول ناگزیر ہے اور امدادی کارکنوں کی حفاظت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اس معاملے پر مختلف سطح پر تحقیقات کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن اسرائیلی حکام کی جانب سے فوجداری تحقیقات نہ کرنے کا حتمی فیصلہ سامنے آنے کے بعد کینبرا میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ آسٹریلوی وزارت خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس امر پر زور دیا ہے کہ انسانی ہمدردی کے تحت کام کرنے والے افراد پر حملوں کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ ذمہ داران کا احتساب ممکن بنایا جا سکے، اور اس معاملے کو یوں نظر انداز کرنا قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ اسرائیلی سفارت خانے کے اس مبینہ بیان کے بعد کہ اس معاملے میں بعض حلقے منفی ردعمل دے رہے ہیں، آسٹریلوی سیاسی حلقوں میں مزید اشتعال پھیل گیا ہے۔ وزیر خارجہ پینی ونگ اور دیگر رہنماؤں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ زومی فرینکم جیسے نڈر امدادی کارکن کی ہلاکت پر انصاف کا تقاضا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ آسٹریلیا کا یہ تازہ مؤقف عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی سراہا جا رہا ہے جو غزہ میں امدادی کارکنوں کی سلامتی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔