Politics
امریکہ ایران مذاکرات کی بحالی: اسلام آباد مفاہمت نامے پر عمل درآمد کی کوششیں جاری
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق دستاویزی فلم کو مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیا۔
اسلام آباد: دفتر خارجہ نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور دونوں فریقین کو گزشتہ ماہ طے پانے والے اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ گزشتہ چند دنوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں نسبتاً سکون دیکھا گیا ہے، تاہم خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال تاحال تشویشناک اور غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کو دیرپا بنانے اور فریقین کے درمیان بات چیت کے دروازے کھولنے کے لیے سفارتکاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے خاتمے اور معمولات زندگی بحال کرنے کے سلسلے میں فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے۔ترجمان نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اسلام آباد مفاہمت نامے نیز پاکستان اور قطر کے مشترکہ اعلامیے کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ واضح رہے کہ یہ مفاہمت نامہ جون کے وسط میں وسیع سفارتی کوششوں کے بعد طے پایا تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور تنازع کو ختم کرنا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں نے اس عمل کو متاثر کیا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام پر نشر کی جانے والی دستاویزی فلم کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے اس فلم کو بے بنیاد، متعصبانہ اور قیاس آرائیوں کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نشریاتی ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ طاہر اندرابی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہے اور ملک کو اپنے سکیورٹی میکانزم پر مکمل اعتماد ہے۔بھارت کی جانب سے پاکستانی سرکاری ٹی وی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام بھارتی حکومت کے اس دیرینہ معمول کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ آزادانہ آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتی ہے۔