LIVE
Loading Breaking News...

کولمبیا میں کان کنی کا حادثہ: 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی

News Image
کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے نارینو میں ایک غیر قانونی سونے کی کان میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 13 کان کن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حادثے میں 7 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
کولمبیا کے جنوب مغربی صوبے نارینو میں ایک المناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں سونے کی ایک غیر قانونی کان میں مٹی کا تودہ گرنے سے کم از کم 13 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ حادثہ کان کنی کی غیر محفوظ سرگرمیوں کے باعث پیش آیا، جس نے مقامی آبادی اور حکومتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، کان میں کام کرنے والے مزدوروں پر اچانک پہاڑی کا بڑا حصہ گر پڑا جس سے وہ ملبے تلے دب گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی ریسکیو ٹیموں اور سول ڈیفنس کے رضاکاروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ مشکل جغرافیائی حالات اور مٹی کے تودوں کے گرنے کے خطرات کے باوجود ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے دن رات کام کیا۔ زخمی ہونے والے سات افراد کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ کولمبیا کے مختلف حصوں میں سونے کی غیر قانونی کان کنی ایک طویل عرصے سے سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ان مقامات پر نہ تو حفاظتی انتظامات ہوتے ہیں اور نہ ہی مزدوروں کے لیے کسی قسم کے حفاظتی آلات موجود ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں اکثر ایسے دلخراش حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی عدم توجہی اور نگرانی کے فقدان کی وجہ سے یہ غیر قانونی دھندہ پھل پھول رہا ہے، جس میں مقامی غریب مزدور اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں جاری تمام غیر قانونی کان کنی کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کان کنوں کے لواحقین کی مالی معاونت کی جائے اور ان علاقوں میں کان کنی کے سخت ضوابط کا نفاذ کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھائی ہوئی ہے اور لواحقین کی جانب سے اپنے پیاروں کی تلاش اور ان کی تدفین کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔