LIVE
Loading Breaking News...

ایل نینو کے اثرات اور سری لنکا میں خشک سالی کا بحران

News Image
موسمیاتی تبدیلیوں کے عالمی رجحان ایل نینو کی وجہ سے دنیا بھر میں شدید موسموں کا خطرہ بڑھ گیا ہے جس کے پیش نظر مختلف حکومتیں ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں۔ سری لنکا نے خشک سالی سے نمٹنے کے لیے 14 ملین ڈالر مختص کیے ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو (El Nino) کے حالیہ اثرات دنیا بھر میں شدید موسمی تبدیلیوں کا باعث بن رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی ممالک کو خشک سالی، سیلاب اور شدید گرمی جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کے باعث زرعی پیداوار، پانی کی دستیابی اور انسانی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسیوں کو ترتیب دے رہی ہیں تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ سری لنکا اس عالمی موسمیاتی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں شدید خشک سالی نے معمول کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سری لنکن حکومت نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے 14 ملین ڈالر کی خطیر رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فنڈز بنیادی طور پر ان علاقوں میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے جہاں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ کسی بھی شہری کو پانی کی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رکھا جائے۔ اس امدادی پروگرام کے تحت سری لنکن حکام نے متاثرہ خاندانوں تک پانی پہنچانے کے لیے ایک منظم نظام قائم کیا ہے۔ منصوبے کے مطابق، ہر متاثرہ خاندان کو ہر دو سے تین دنوں کے وقفے سے 75 لیٹر صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔ یہ اقدام انسانی جانوں کو بچانے اور خشک سالی کے مہلک اثرات کو محدود کرنے کے لیے ایک عارضی لیکن ضروری سہارا ہے۔ حکام نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ پانی کی تقسیم کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ دور دراز علاقوں تک بھی پانی بروقت پہنچ سکے۔ مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایل نینو کے اثرات طویل مدت تک برقرار رہے تو خوراک اور پانی کی قلت کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ سری لنکا کی مثال دیگر ممالک کے لیے ایک سبق ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیشِ نظر پیشگی اقدامات کریں اور اپنی بنیادی سہولیات کے نظام کو مضبوط بنائیں۔ بین الاقوامی برادری بھی اس بحران سے نمٹنے کے لیے سری لنکا سمیت متاثرہ ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔