LIVE
Loading Breaking News...

اینڈرائیڈ 17 اپ ڈیٹ: اسمارٹ فون کی رفتار بڑھانے کے لیے نیا فیچر متعارف

News Image
گوگل اپنے نئے اینڈرائیڈ 17 اپ ڈیٹ میں ایپس کی میموری کے استعمال کو محدود کرنے جا رہا ہے تاکہ اسمارٹ فونز کی رفتار اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس تبدیلی سے پس منظر میں چلنے والی ایپس پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور بیٹری کی بچت بھی ہوگی۔
گوگل کی جانب سے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کے آئندہ ورژن یعنی اینڈرائیڈ 17 کی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں سب سے اہم تبدیلی میموری مینجمنٹ سے متعلق متوقع ہے۔ ٹیکنالوجی ذرائع کے مطابق، کمپنی اب ایپس کی جانب سے ریم (RAM) کے بے جا استعمال کو محدود کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پس منظر میں چلنے والی بھاری ایپس ڈیوائس کی میموری کو بری طرح متاثر کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں فون سست ہو جاتا ہے یا ہینگ ہونے لگتا ہے۔ اینڈرائیڈ 17 کا نیا فیچر ان ایپس پر سخت کنٹرول رکھے گا، جس سے ڈیوائس کی مجموعی کارکردگی میں واضح بہتری آئے گی۔ اس نئے اپ ڈیٹ کا بنیادی مقصد اسمارٹ فونز کے ہارڈ ویئر پر بوجھ کو کم کرنا ہے۔ اینڈرائیڈ کے حالیہ ورژنز میں گوگل نے بیٹری کی بچت کے لیے کئی فیچرز متعارف کرائے تھے، لیکن میموری کا مسئلہ اب بھی بہت سے صارفین کے لیے درد سر بنا ہوا تھا۔ اینڈرائیڈ 17 کے نئے پروٹوکولز کے تحت، ایپس کو ایک مخصوص حد تک ہی میموری استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ جب کوئی ایپ اس حد سے تجاوز کرنے کی کوشش کرے گی تو سسٹم خود بخود اسے متحرک کر کے میموری کو خالی کرے گا تاکہ مرکزی پروسیسر اور ریم پر دباؤ کم رہے۔ یہ اقدام خاص طور پر بجٹ اور مڈ رینج اسمارٹ فونز کے لیے انتہائی کارآمد ثابت ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی نہ صرف اسمارٹ فون کی اسپیڈ کو بڑھائے گی بلکہ اس کے طویل مدتی اثرات بیٹری کی زندگی پر بھی مرتب ہوں گے۔ جب ایپس پس منظر میں کم ریم استعمال کریں گی تو پروسیسر پر بوجھ کم ہوگا، جس سے بیٹری کی کھپت میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس فیچر کو اینڈرائیڈ کے آرکیٹیکچر میں بنیادی سطح پر ضم کیا جا رہا ہے، تاکہ یہ عمل صارف کے تجربے میں خلل ڈالے بغیر خود کار طریقے سے کام کر سکے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اینڈرائیڈ 17 کا یہ فیچر صارفین کو ایک ہموار اور تیز رفتار موبائل تجربہ فراہم کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ مزید برآں، گوگل ڈویلپرز کے لیے بھی نئے ٹولز متعارف کرا رہا ہے تاکہ وہ اپنی ایپس کو اینڈرائیڈ 17 کے ان نئے میموری معیارات کے مطابق ڈھال سکیں۔ اس سے نہ صرف ایپس کے کریش ہونے کے واقعات میں کمی آئے گی بلکہ اینڈرائیڈ ایکو سسٹم زیادہ مستحکم اور بھروسہ مند بن سکے گا۔ اگرچہ اس فیچر کی مزید تفصیلات آنے والے مہینوں میں سامنے آئیں گی، لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اینڈرائیڈ 17 موبائل کارکردگی کے حوالے سے ایک انقلابی اپ ڈیٹ ثابت ہو سکتا ہے، جس کا انتظار دنیا بھر کے صارفین کو شدت سے ہے۔