LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ یوکرین ڈرون پارٹنرشپ: کیا روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی بڑھے گی؟

News Image
برطانیہ کی جانب سے یوکرین کے ساتھ نئی ڈرون شراکت داری کا مقصد طویل مدتی سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے، تاہم اس اقدام سے روس کی جانب سے شدید ردعمل کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تعاون یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو نئی جہت دے گا لیکن جنگ کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بدستور موجود ہے۔
برطانیہ اور یوکرین کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ گیا ہے۔ جب 2024 کے اواخر میں برطانیہ نے یوکرین کو برطانوی ساختہ سٹارم شیڈو کروز میزائل روس کے اندر اہداف کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، تو ماسکو نے لندن پر جنگ کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا اور جوابی کارروائی کی دھمکیاں دی تھیں۔ اب اس دفاعی شراکت داری کو ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں وسعت دی جا رہی ہے، جس کا مقصد یوکرین کی جنگی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ یہ پیش رفت بلاشبہ روس کے لیے ایک بڑی چیلنج ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے یوکرین کو دشمن کی حدود کے اندر تک حملے کرنے کی جدید طاقت ملے گی۔ ماہرین کے مطابق، برطانیہ کا یہ اقدام یوکرین کی طویل مدتی سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اگرچہ روس اس قسم کی فوجی امداد کو براہ راست مداخلت قرار دے کر سخت غصے کا اظہار کر رہا ہے، تاہم برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کا موقف ہے کہ یوکرین کو اپنا دفاع کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ اس ڈرون پارٹنرشپ کے ذریعے یوکرین کو نہ صرف جدید نگرانی کرنے والے آلات ملیں گے بلکہ خودکار حملہ آور ڈرون بھی فراہم کیے جائیں گے جو جنگی میدان میں یوکرین کی پوزیشن کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ یہ ٹیکنالوجی روس کی روایتی فوجی برتری کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ دوسری جانب، سیاسی مبصرین کو خدشہ ہے کہ روس اس شراکت داری کو اپنے لیے ایک 'ریڈ لائن' کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ ماضی میں بھی جب مغربی ممالک نے جدید ہتھیار فراہم کیے تو روس نے جوہری دھمکیوں سمیت مختلف طریقوں سے دباؤ بڑھایا ہے۔ اس نئی ڈرون شراکت داری سے یہ قیاس آرائیاں بھی جنم لے رہی ہیں کہ کیا یہ اقدام جنگ کو کسی بڑے بحران کی طرف لے جائے گا یا یوکرین کو مذاکرات کی میز پر مضبوط پوزیشن دلانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ لندن کا اصرار ہے کہ یہ اقدام محض دفاعی ہے، لیکن عالمی سطح پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا یہ مغرب کی طرف سے روس کو مزید اشتعال دلانے کا ایک نیا طریقہ تو نہیں ہے۔ آخر میں، برطانیہ اور یوکرین کے درمیان اس بڑھتے ہوئے عسکری اتحاد کے اثرات پورے یورپی خطے پر مرتب ہوں گے۔ اگرچہ یوکرین کو اس سے عارضی فوجی برتری مل سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے اثرات جنگ کے خاتمے یا اس کے مزید طول پکڑنے کے حوالے سے اہم ہوں گے۔ دنیا بھر کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا روس اس ڈرون پارٹنرشپ کا جواب اپنی عسکری کارروائیوں میں شدت لا کر دے گا یا سفارتی محاذ پر اس کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس صورتحال میں ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے مابین تناؤ میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔