Business
سچن بنسل کی کمپنی نوی کو 100 ملین ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری مل گئی
بھارتی فن ٹیک کمپنی نوی نے عالمی سرمایہ کار پراسس سے 100 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ یہ کمپنی کی تاریخ میں پہلی بڑی ادارہ جاتی سرمایہ کاری ہے جو اس کے آپریشنز کو مزید وسعت دے گی۔
بھارتی فن ٹیک انڈسٹری میں ایک اہم پیش رفت کے دوران، مشہور کاروباری شخصیت سچن بنسل کی قائم کردہ کمپنی 'نوی' (Navi) نے عالمی ٹیکنالوجی سرمایہ کار 'پراسس' (Prosus) سے 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت نوی کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ کمپنی کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ کسی بڑے عالمی ادارے نے اس میں اتنی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس سے قبل یہ کمپنی بنیادی طور پر ذاتی وسائل اور نجی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے آپریشنز چلا رہی تھی۔
اس سرمایہ کاری کے بعد نوی کے مالیاتی اثاثوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے کمپنی اپنے ڈیجیٹل قرضوں، انشورنس اور میوچل فنڈز کے شعبوں کو مزید مستحکم کر سکے گی۔ پراسس کی جانب سے یہ سرمایہ کاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت میں فن ٹیک سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور روایتی بینکنگ کے مقابلے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عوام میں مقبول ہو رہے ہیں۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق، نوی کا مقصد اب اپنی ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کو جدید بنانا اور ملک کے چھوٹے شہروں تک اپنی مالیاتی خدمات کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
سچن بنسل، جو اس سے قبل ای کامرس دیو 'فلپ کارٹ' کے بانی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، نوی کو ایک ایسی ون اسٹاپ فنانشل ایپ بنانا چاہتے ہیں جو صارفین کو گھر بیٹھے بینکنگ، انشورنس اور سرمایہ کاری کی تمام سہولیات فراہم کرے۔ 100 ملین ڈالر کی اس تازہ ترین فنڈنگ کے ذریعے نوی کو نہ صرف کیپٹل بیس مضبوط کرنے میں مدد ملے گی، بلکہ یہ مارکیٹ میں حریف کمپنیوں کے مقابلے میں اپنی پوزیشن کو بھی مستحکم کر سکے گی۔ پراسس کا یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ بھارتی فن ٹیک سٹارٹ اپس عالمی سرمایہ کاروں کے لیے اب بھی ایک پرکشش سرمایہ کاری کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
آنے والے وقتوں میں نوی اس فنڈ کو اپنے ملازمین کی تعداد بڑھانے اور نئی مصنوعات کے اجراء کے لیے استعمال کرے گی۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ شفافیت اور ٹیکنالوجی کے امتزاج سے عام آدمی کے لیے مالیاتی خدمات کو آسان بنانا چاہتے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری نوی کے آئندہ چند سالوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک اہم ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگی، جس سے کمپنی اپنی مارکیٹ شیئر میں مزید اضافہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔