LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی سلوپ کیا ہے اور یہ انٹرنیٹ کو کیسے بدل رہا ہے

News Image
انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ بے معنی اور غیر معیاری مواد کی بھرمار نے صارفین کی توجہ اور وقت کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس رجحان کو تکنیکی حلقوں میں ’اے آئی سلوپ‘ کا نام دیا گیا ہے جو معیار کے بجائے صرف کلک حاصل کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
آج کل ڈیجیٹل دنیا میں ایک نیا رجحان سر اٹھا رہا ہے جسے ماہرین ’اے آئی سلوپ‘ (AI Slop) کا نام دے رہے ہیں۔ اگر آپ سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پلیٹ فارمز پر کچھ وقت گزاریں تو آپ کو ایسی سینکڑوں ویڈیوز یا تحریریں نظر آئیں گی جو دیکھنے میں تو متاثر کن لگتی ہیں لیکن درحقیقت ان کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر ایک ایسی ویڈیو جس میں ایک شخص دھند میں کھڑا ٹرمپیٹ بجا رہا ہے اور اس کی کہانی انتہائی بے معنی ہے، یہ سب مصنوعی ذہانت کی مدد سے سیکنڈوں میں تیار کیا گیا مواد ہے۔ یہ مواد انسانی تخلیقیت کی عکاسی کرنے کے بجائے صرف اور صرف پلیٹ فارمز پر ٹریفک حاصل کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اس مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ اے آئی ٹولز نے مواد کی تیاری کو اتنا سستا اور تیز کر دیا ہے کہ اب معیار کی جگہ مقدار نے لے لی ہے۔ پہلے کسی بھی تخلیقی کام کے لیے گھنٹوں یا دنوں کی محنت درکار ہوتی تھی، لیکن اب اے آئی ماڈلز کے ذریعے غیر معیاری اور بے مقصد ویڈیوز کا ڈھیر لگایا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ اب ایسے مواد سے بھر چکا ہے جو نہ تو معلومات فراہم کرتا ہے اور نہ ہی تفریح کا باعث بنتا ہے، بلکہ یہ صارفین کا وقت ضائع کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔ اس صورتحال سے آن لائن تجربہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور اصل تخلیق کاروں کا کام ان کے بیچ کہیں کھو گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اے آئی سلوپ‘ کا یہ طوفان آنے والے وقت میں مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ اگر پلیٹ فارمز نے ایسے مواد کو فلٹر کرنے کے لیے سخت پالیسیاں نہیں اپنائیں، تو انٹرنیٹ پر مستند معلومات ڈھونڈنا ناممکن ہو جائے گا۔ مصنوعی ذہانت کا مقصد انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا، لیکن فی الحال اس کا استعمال زیادہ تر ایسے مواد کے لیے ہو رہا ہے جو کسی کام کا نہیں۔ صارفین کو اب یہ سیکھنا ہوگا کہ وہ کس طرح حقیقی مواد اور اے آئی کے ذریعے بنائے گئے فضول مواد میں فرق کر سکیں، تاکہ وہ اپنا قیمتی وقت بچا سکیں۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی بذات خود بری نہیں ہے بلکہ اس کا غلط استعمال اسے ایک سنگین مسئلے میں بدل رہا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ انٹرنیٹ ایک معلوماتی اور تعمیری جگہ رہے، تو ہمیں اس ’اے آئی سلوپ‘ کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی اور معیاری مواد کو ترجیح دینی ہوگی۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنی الگورتھم کی ترجیحات تبدیل کرنی ہوں گی تاکہ صرف وہی مواد سامنے آئے جو واقعی کسی قدر کا حامل ہو۔ بصورت دیگر، انٹرنیٹ کا مستقبل صرف بے معنی ویڈیوز اور جھوٹی کہانیوں کا مجموعہ بن کر رہ جائے گا۔