World
کیف پر روسی میزائل حملہ: 16 ہلاکتوں کی تصدیق
روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر کیے گئے شدید میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام کی کمی کی وجہ سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روس کی جانب سے کیے گئے ایک بڑے اور شدید میزائل حملے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق روس نے صبح سویرے شہری آبادی اور تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے شہر بھر میں تباہی پھیل گئی۔ مقامی حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے کام میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس حملے کی گونج دور دور تک سنی گئی اور کیف کے متعدد علاقوں میں بجلی اور دیگر بنیادی خدمات معطل ہو گئیں۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس المناک واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک شدید فضائی دفاعی نظام کی کمی کا شکار ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور مغربی اتحادیوں پر زور دیا کہ یوکرین کو جدید ترین فضائی دفاعی نظام فراہم کیے جائیں تاکہ عام شہریوں کو اس طرح کے تباہ کن حملوں سے بچایا جا سکے۔ زیلنسکی کا کہنا تھا کہ پیٹریاٹ جیسے دفاعی نظاموں کی عدم دستیابی کے باعث آج یوکرین کے متعدد شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اور یہ نقصان ناقابل تلافی ہے۔
حالیہ حملے صرف کیف تک محدود نہیں رہے بلکہ اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے اثرات پڑوسی ممالک رومانیہ اور مالدووا کی سرحدوں کے قریب بھی محسوس کیے گئے، جس سے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ روس کی جانب سے کیف پر یہ حملہ جنگ کے آغاز کے بعد سے کیے جانے والے شدید ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے عام شہریوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی قرار دیا ہے۔
فی الحال یوکرین کی فوج اور امدادی ادارے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یہ جارحانہ حکمت عملی یوکرین کے حوصلے پست کرنے کے لیے اپنائی جا رہی ہے، تاہم یوکرینی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ بین الاقوامی مبصرین اس صورتحال کو مزید سنگین قرار دے رہے ہیں کیونکہ جنگ کا دائرہ کار پھیلنے سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔