LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کا متنازعہ نقشہ: عالمی سیاست میں نئی بحث کا آغاز

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک نقشہ شیئر کیا گیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو امریکی حدود کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ اس اقدام پر تہران نے شدید ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کا قبضہ یا انضمام کشیدگی کو مزید بڑھا دے گا۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک متنازعہ نقشہ جاری کیا گیا ہے جس میں دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک، 'آبنائے ہرمز' کو امریکی علاقہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس نقشے کے منظر عام پر آتے ہی عالمی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور تہران کی جانب سے اسے اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی بیرونی طاقت کی جانب سے آبنائے ہرمز پر قبضے یا اسے اپنے علاقے میں شامل کرنے کی کوششوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا، کیونکہ یہ خطہ ایران کی قومی سلامتی اور اقتصادی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اقدام ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں ایک نئے محاذ کا اضافہ ہے۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف پالیسیوں میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، جس میں کبھی جنگی دباؤ تو کبھی مذاکرات کی پیشکش شامل رہی ہے، لیکن آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ ظاہر کرنا ایک انتہائی غیر معمولی قدم ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ اقدام ممکنہ طور پر ایران کو اشتعال دلا کر خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ تہران کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانیوں کا حصہ ہے اور اس پر کسی بھی ملک کا یکطرفہ دعویٰ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس خطے میں اپنی جارحانہ پالیسیوں کو مزید آگے بڑھایا تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ ادھر اسرائیل اور غزہ کی صورتحال پر بھی عالمی توجہ مرکوز ہے، جہاں ٹرمپ کی نئی پالیسیوں کے تحت کشیدگی میں کمی یا اضافے کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا امریکہ اپنے اس موقف پر قائم رہتا ہے یا اسے محض ایک سیاسی بیان بازی کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ عالمی برادری آبنائے ہرمز میں کسی بھی بڑی فوجی مداخلت سے گریز چاہتی ہے کیونکہ اس سمندری راستے کی بندش سے دنیا بھر میں توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس وقت صورتحال انتہائی نازک ہے اور دنیا بھر کے ممالک ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی اس نئی کشیدگی پر گہری تشویش کا شکار ہیں۔