LIVE
Loading Breaking News...

یوآن کی قدر میں کمی کے لیے چین کا نیا معاشی اقدام

News Image
پیپلز بینک آف چائنہ نے یوآن کی قیمت میں غیر معمولی اضافے کو روکنے کے لیے ایک کمزور حوالہ ریٹ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی کرنسی کی قدر میں توازن برقرار رکھنا اور عالمی منڈی میں چینی برآمدات کی مسابقت کو محفوظ بنانا ہے۔
بیجنگ: چین کے مرکزی بینک یعنی پیپلز بینک آف چائنہ (PBOC) نے ملکی کرنسی یوآن کی قدر میں تیزی سے ہونے والے اضافے کو سست کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مسلسل بہتری دیکھی گئی تھی، جس کے بعد مرکزی بینک نے ایک ایسا حوالہ ریٹ مقرر کیا ہے جو مارکیٹ کی توقعات سے کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام چینی برآمد کنندگان کے مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ یوآن کی ضرورت سے زیادہ مضبوطی عالمی منڈیوں میں چینی مصنوعات کی قیمتوں کو متاثر نہ کرے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے تجزیوں کے مطابق، پیپلز بینک آف چائنہ نے یوآن کی ایکسچینج ریٹ کو 6.7196 کی سطح پر رکھنے کا اشارہ دیا ہے، جو کہ سرمایہ کاروں کے اندازوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ یوآن کی قدر میں حالیہ بہتری کی ایک بڑی وجہ ڈالر کی عالمی منڈی میں کمزور کارکردگی بتائی جا رہی ہے۔ ڈالر کے گرتے ہوئے گراف نے دیگر عالمی کرنسیوں سمیت یوآن کو مضبوط ہونے کا موقع فراہم کیا، تاہم چینی حکام اس اضافے کو ایک حد میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ معاشی استحکام برقرار رہ سکے۔ مالیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی جانب سے یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بیجنگ اپنی کرنسی کی قدر میں بتدریج تبدیلی کا حامی ہے اور کسی بھی قسم کے اچانک اتار چڑھاؤ سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ایم یو ایف جی (MUFG) اور دیگر مالیاتی اداروں نے بھی اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ چین یوآن کی قیمت کے تعین کے معاملے میں محتاط پالیسی جاری رکھے گا۔ آنے والے دنوں میں چینی معاشی پالیسی سازوں کی جانب سے کرنسی مارکیٹ میں مزید مداخلت کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ عالمی تجارتی حالات مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔ مجموعی طور پر، چینی مرکزی بینک کی یہ حکمت عملی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ یوآن نہ صرف مستحکم رہے بلکہ یہ چین کی برآمدی معیشت کے لیے بھی سود مند ثابت ہو۔ سرمایہ کار اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ اقدام ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی موجودہ تیزی کو مکمل طور پر روک پائے گا یا مارکیٹ کے دباؤ کے تحت مزید ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت پڑے گی۔ چین کی یہ کوششیں عالمی مالیاتی منڈیوں میں یوآن کی حیثیت کو مستحکم رکھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔