World
اسٹور برج میں پراسرار آتشزدگی اور مکانات کی بقا کا معمہ
برطانیہ کے علاقے اسٹور برج میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی کے بعد ماہرین اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کچھ گھروں کو نقصان کیوں نہیں پہنچا۔ ابتدائی تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ گھروں کی تعمیراتی ساخت اور حفاظتی اقدامات نے ان کی بقا میں اہم کردار ادا کیا۔
برطانیہ کے علاقے اسٹور برج میں گزشتہ ہفتے پیش آنے والی تباہ کن آتشزدگی کے بعد علاقے کے مکینوں اور انتظامیہ کے ذہنوں میں ایک بڑا سوال یہ گردش کر رہا ہے کہ آخر کچھ مکانات آگ کی لپیٹ میں آنے کے باوجود مکمل طور پر محفوظ کیسے رہے، جبکہ ان کے پڑوسیوں کو اپنا سب کچھ کھونا پڑا۔ اس سانحے میں جہاں درجنوں خاندان بے گھر ہوئے، وہیں کچھ گھر ایسے بھی تھے جنہیں معمولی نقصان بھی نہیں پہنچا، جس نے ماہرینِ تعمیرات اور فائر سیفٹی حکام کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات اور فائر بریگیڈ کے ماہرین کے مطابق، مکانات کی بقا کی کئی تکنیکی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سب سے اہم عنصر گھروں کی تعمیر میں استعمال ہونے والا میٹریل ہے۔ جن گھروں میں جدید فائر پروف اینٹوں، کنکریٹ اور آگ کے پھیلاؤ کو روکنے والے خاص پینلز کا استعمال کیا گیا تھا، انہوں نے آگ کی تپش کو زیادہ دیر تک برداشت کیا۔ اس کے علاوہ، گھروں کے درمیان موجود گیپ یا 'فائر بریکز' نے بھی آگ کو ایک عمارت سے دوسری عمارت تک پہنچنے سے روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اگر دو مکانات کے درمیان کافی فاصلہ ہو یا دیواریں آگ کو برداشت کرنے والی مٹیریل سے بنی ہوں تو آگ کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
دوسری جانب، ہوا کا رخ اور اس وقت کی موسمیاتی صورتحال بھی ایک بڑا فیکٹر ہے۔ کچھ گھروں کی سمت ایسی تھی کہ آگ کے شعلے اور دھواں ان کی طرف نہیں آئے، جس کی وجہ سے وہ بڑے نقصان سے بچ گئے۔ اس کے علاوہ، کچھ مکینوں کی جانب سے بروقت آگ بجھانے والے آلات (فائر ایکسٹنگوشر) کا استعمال اور گھروں کے اندر حفاظتی الارمز کا ہونا بھی ان کے دفاع میں مددگار ثابت ہوا۔ ماہرین اب ان تمام گھروں کا تفصیلی معائنہ کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے تعمیراتی ضوابط میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
یہ واقعہ نہ صرف متاثرین کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ رہائشی عمارتوں کی تعمیر میں حفاظتی معیارات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ فی الحال فائر ڈیپارٹمنٹ کی ٹیمیں علاقے میں مزید شواہد اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس طرح کی تباہی دوبارہ نہ ہو۔ متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے مقامی کمیونٹی اور حکومت کی جانب سے امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں تاکہ ان کی زندگیوں کو معمول پر لایا جا سکے۔