LIVE
Loading Breaking News...

لیبیا میں سیاسی اتحاد کی کوششیں: کیا طرابلس اور بنغازی ایک ہو سکیں گے؟

News Image
امریکہ اور مشرق وسطیٰ کی طاقتیں لیبیا میں طویل عرصے سے قائم دو حریف حکومتوں کو متحد کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔ پندرہ سال قبل معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے یہ ملک شدید سیاسی بحران اور تقسیم کا شکار ہے۔
معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے اور نیٹو کی مداخلت کو پندرہ برس بیت چکے ہیں، تاہم لیبیا آج بھی سیاسی عدم استحکام اور تقسیم کے گہرے سائے میں ہے۔ حالیہ عرصے کے دوران، امریکی حکومت نے ایک بار پھر اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ طرابلس اور بنغازی میں قائم دو حریف حکومتوں کو ایک میز پر لایا جا سکے اور ملک میں دیرپا امن اور قومی اتحاد کی بنیاد رکھی جا سکے۔ بین الاقوامی برادری کا ماننا ہے کہ لیبیا کی معاشی بحالی اور سکیورٹی صورتحال میں بہتری اسی وقت ممکن ہے جب ملک کے تمام با اثر دھڑے ایک مرکزی حکومت کے تحت متفق ہوں۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے کئی با اثر ممالک بھی لیبیا میں استحکام لانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان ممالک کا مقصد صرف سیاسی تصفیہ نہیں بلکہ لیبیا میں جاری غیر ملکی مداخلت کو محدود کرنا اور مقامی سیاسی قوتوں کو خود مختار بنانا ہے۔ لیبیا میں موجود تیل کے وسیع ذخائر اور اس کی تزویراتی جغرافیائی حیثیت اسے عالمی طاقتوں کے لیے ہمیشہ سے اہم بناتی رہی ہے، جس کے باعث یہاں کی داخلی سیاست میں توازن قائم کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ سفارت کاروں کے مطابق، موجودہ پیش رفت میں اہم پیشگی شرائط کے طور پر انتخابات کے انعقاد اور مسلح گروہوں کے انضمام پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیبیا کے سیاسی منظرنامے میں برسوں سے جڑے ہوئے مفادات اور باہمی بداعتمادی کی دیواریں گرانا ایک کٹھن کام ہے۔ دونوں حکومتوں کے اپنے اپنے حامی اور مسلح قوتیں ہیں جو اقتدار کی منتقلی کے عمل کو اپنے حق میں کرنا چاہتی ہیں۔ امریکہ اور خطے کے ممالک پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار نبھاتے ہوئے ایک ایسے لائحہ عمل کو یقینی بنائیں جو تمام لیبی عوام کے لیے قابل قبول ہو۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ لیبیا کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، لیکن ناکامی کی صورت میں ملک مزید طویل خانہ جنگی اور معاشی تباہی کی طرف دھنس سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں سفارتی سرگرمیوں کا دائرہ کار یہ طے کرے گا کہ آیا لیبیا واقعی متحد ہو سکتا ہے یا تقسیم کی لکیر مزید گہری ہوتی جائے گی۔