Pakistan
جماعت اسلامی کی ملک گیر احتجاجی تحریک، پہیہ جام ہڑتال کا اعلان
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو 12 ربیع الاول کے بعد ملک گیر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔ انہوں نے حکومتی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اشرافیہ کے اخراجات میں کمی لائی جائے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو واضح تنبیہ کی ہے کہ اگر پیٹرولیم لیوی کا ظالمانہ ٹیکس ختم نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی 12 ربیع الاول کے بعد اپنی احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دے کر ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا راستہ اختیار کرے گی۔ حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے 8 ٹریلین روپے سے زائد وصول کیے گئے لیکن ریفائنریز کی اپ گریڈیشن پر بہت کم رقم خرچ کی گئی، جسے وہ سراسر ظلم اور ناجائز ٹیکس قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 130 روپے فی لیٹر تک کمی کی جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
امیر جماعت اسلامی نے آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کی جدوجہد کے نتیجے میں پہلے ہی کچھ معاہدے ختم ہوئے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا، تاہم ابھی بھی 73 آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے حکمران اشرافیہ کی مراعات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا قرض 98 ٹریلین تک پہنچ چکا ہے، جبکہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں میں مصروف ہے اور بوجھ عام آدمی پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کفایت شعاری اپنانے اور حکومتی گاڑیوں کے انجن کی صلاحیت کو محدود کرنے سمیت کئی تجاویز بھی پیش کیں۔
پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم الرحمٰن نے موجودہ حکومت کی صوبائی کارکردگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں چار دہائیوں سے حکمرانی کرنے والی جماعت نے صوبے کے بنیادی مسائل حل نہیں کیے اور تعلیم جیسے شعبے کو آؤٹ سورس کرنا حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا اور جیل میں طبی سہولیات کی فراہمی نہ ہونے کو فسطائیت قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اب کسی حکومتی بریفنگ میں حصہ نہیں لے گی بلکہ مطالبہ کیا کہ حکومتی نمائندے براہِ راست مظاہرین کے پاس آئیں اور ان کے مطالبات پر عملی بات چیت کریں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اس عوامی تحریک میں ان کا بھرپور ساتھ دے تاکہ ظالمانہ ٹیکسوں اور مہنگائی سے چھٹکارا پایا جا سکے۔