LIVE
Loading Breaking News...

ایران پر امریکی پابندیوں کا خطرہ: پاکستان سمیت دیگر ممالک کی معیشت پر اثرات

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر معاشی پابندیوں اور اسے تنہا کرنے کی دھمکی نے عالمی تجارتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس صورتحال میں ان ممالک کے لیے سنگین چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر بے مثال معاشی دباؤ ڈالنے اور اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی دھمکی نے عالمی منڈیوں میں ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ان تمام ممالک کو بھی سخت انتباہ جاری کیا ہے جو ایران کے ساتھ تجارتی یا معاشی تعاون برقرار رکھیں گے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان ممالک کے لیے ایک بڑا امتحان ہے جن کی معیشت کا ایک حصہ ایرانی تجارت سے جڑا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ اپنی ان دھمکیوں پر عمل کرتے ہیں تو ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والے ممالک کو امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاصی تشویشناک ہے، کیونکہ حال ہی میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ اگرچہ ماضی میں پابندیوں کے باعث باضابطہ تجارت متاثر رہی ہے، لیکن غیر رسمی ذرائع سے دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 4 ارب ڈالر کا تجارتی حجم موجود ہے۔ دوسری جانب چین، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، کو بھی امریکی دباؤ کا سامنا ہے۔ بیجنگ نے اس حوالے سے موقف اختیار کیا ہے کہ پابندیاں مسائل کا حل نہیں ہیں اور اسے سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح بھارت، عراق، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ اہم معاشی روابط ہیں، جن میں سے اکثر ممالک توانائی کی ضروریات یا اشیائے خوردونوش کے لیے ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، جو تاریخی طور پر ایران کے لیے ایک معاشی لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے، نے حالیہ کشیدگی کے پیش نظر ایران کے ساتھ تمام مالیاتی اور معاشی لین دین کو معطل کر دیا ہے۔ اس کے برعکس ترکی نے تاحال ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے، خاص طور پر قدرتی گیس کی درآمد کے معاملے میں، کیونکہ ایران ترکی کی گیس کی ضروریات کا اہم ذریعہ ہے۔ عراق کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے، جہاں ایران سے بجلی کی پیداوار کے لیے گیس کی خریداری ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ عراق سالانہ اربوں ڈالر ایران کو ادا کرتا ہے، اور کسی بھی نئی امریکی پابندی کا مطلب بغداد کے لیے توانائی کا بحران پیدا ہونا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ان تمام ممالک کے لیے آنے والا وقت انتہائی کٹھن ہو سکتا ہے۔ جہاں ایک طرف واشنگٹن اپنی سخت پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کے لیے پرعزم ہے، وہیں دوسری طرف متعلقہ ممالک کے لیے اپنی معاشی ضروریات اور امریکی پابندیوں کے خوف کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا عالمی طاقتیں ایران کے معاملے پر کوئی درمیانی راستہ نکال پاتی ہیں یا پھر ٹرمپ کی یہ دھمکی عالمی تجارت میں ایک نئی تقسیم کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔