LIVE
Loading Breaking News...

چین کا بڑا اقدام: اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی دیہی علاقوں میں منتقلی

News Image
چین اپنی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے ڈیٹا سینٹرز کو گنجان آباد شہروں سے نکال کر دور دراز دیہی علاقوں میں منتقل کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد وافر توانائی اور زمین کی دستیابی کو یقینی بناتے ہوئے 'ایسٹرن ڈیٹا، ویسٹرن کمپیوٹنگ' منصوبے کو کامیاب بنانا ہے۔
چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب اپنے وسیع و عریض مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز کو بڑے شہروں سے ہٹا کر ملک کے دیہی اور پسماندہ صوبوں میں منتقل کر رہی ہیں۔ اس حکمت عملی کو 'ایسٹرن ڈیٹا، ویسٹرن کمپیوٹنگ' (Eastern Data, Western Computing) کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہواوے (Huawei) اور ٹینسنٹ (Tencent) جیسی بڑی چینی ٹیک کمپنیاں گویژو جیسے صوبوں میں اپنے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے وسعت دے رہی ہیں۔ ان علاقوں کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ وہاں زمین کی فراوانی ہے اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وسائل وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ ماہرین کے مطابق، چین کے مشرقی ساحلی شہروں میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور جگہ کی تنگی ایک بڑا چیلنج بن چکی تھی۔ دیہی علاقوں میں منتقلی سے نہ صرف لاگت میں کمی آئے گی بلکہ وہاں کی مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔ ان علاقوں میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے عمل میں بہت کم رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں، کیونکہ وہاں آبادی کا دباؤ کم ہے اور حکومتی پالیسیاں بھی اس طرح کے تکنیکی منصوبوں کے لیے انتہائی سازگار ہیں۔ چین کی یہ حکمت عملی اسے عالمی سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دوڑ میں مزید مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔ تاہم، کچھ ماہرین اس حکمت عملی کے طویل مدتی اثرات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ دیہی علاقوں میں انفراسٹرکچر بنانا آسان ہے، لیکن تکنیکی ماہرین کی دستیابی اور ڈیٹا کی ترسیل کے نیٹ ورک کو ان دور دراز علاقوں تک فعال رکھنا ایک پیچیدہ کام ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، چینی حکومت اس منصوبے پر پرعزم ہے تاکہ ملک بھر میں ڈیٹا کی پروسیسنگ کو بہتر بنایا جا سکے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کی جا سکے۔ مستقبل قریب میں، یہ ڈیٹا سینٹرز چین کی ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوں گے۔ مزید برآں، یہ اقدام چین کے توانائی کے بحران کو حل کرنے اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں کا بھی حصہ ہے۔ دیہی علاقوں میں سبز توانائی کے ذرائع جیسے کہ ہوا اور شمسی توانائی تک رسائی آسان ہے، جو ڈیٹا سینٹرز کو ماحول دوست طریقے سے چلانے میں معاون ثابت ہوگی۔ اس طرح، چین نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی برتری قائم کرنا چاہتا ہے بلکہ پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کو حاصل کرنے کی جانب بھی پیش قدمی کر رہا ہے۔