World
نیپال: نیشنل ویجلنس سینٹر کی 11 ہزار ملازمین کے خلاف سخت کارروائی
نیپال کے نیشنل ویجلنس سینٹر نے سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بڑی کارروائی کرتے ہوئے گیارہ ہزار ملازمین کے خلاف ایکشن لیا ہے۔ یہ کارروائی وزیراعظم کی زیر نگرانی حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے سلسلے میں کی گئی ہے۔
نیپال کے نیشنل ویجلنس سینٹر نے سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط کی بحالی اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک بڑی مہم شروع کر رکھی ہے۔ وزیراعظم کے دفتر اور کونسل آف منسٹرز کے ماتحت کام کرنے والے اس ادارے نے گزشتہ چار ماہ کے دوران مجموعی طور پر گیارہ ہزار سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کی ہے۔ یہ اقدام ملک میں عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور سرکاری اداروں میں کام کے اوقات کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ان ملازمین کے خلاف یہ کارروائی دفاتر میں غیر حاضری، کام میں غفلت اور فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتنے پر کی گئی ہے۔
اس مہم کا آغاز وزیراعظم کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت کی جانب سے شفافیت اور جوابدہی کے عزم کے بعد ہوا ہے۔ نیشنل ویجلنس سینٹر کی ٹیموں نے مختلف سرکاری دفاتر کے اچانک دورے کیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ملازمین اپنے کام کے دوران موجود ہیں یا نہیں۔ اس جانچ پڑتال کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ایسے ملازمین کی نشاندہی ہوئی جو بلااجازت غیر حاضر تھے یا پھر اپنے دفتر سے غائب پائے گئے۔ ان تمام ملازمین کو قواعد و ضوابط کے مطابق وارننگ جاری کی گئی ہے جبکہ سنگین خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف انضباطی کارروائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ سرکاری شعبے میں احتساب کا یہ عمل جاری رہے گا تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کیا جا سکے۔ نیشنل ویجلنس سینٹر کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ عوامی ٹیکسوں سے تنخواہ لینے والے ملازمین کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اوقات کار کے دوران پوری ایمانداری سے ڈیوٹی انجام دیں۔ آنے والے دنوں میں اس مہم کو مزید تیز کرنے اور دیگر محکموں کی بھی کڑی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری دفاتر میں سستی اور کاہلی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس اقدام کو نیپال میں انتظامی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جسے عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔