LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان جی ایس پی پلس وعدوں پر عملدرآمد کے لیے پرعزم: اسحاق ڈار

News Image
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی یورپی منڈیوں تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے جی ایس پی پلس کے تحت کیے گئے وعدوں پر موثر عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی برآمدات کو بڑھانا اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے حال ہی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران جی ایس پی پلس (GSP Plus) اسٹیٹس کے تحت کیے گئے بین الاقوامی وعدوں پر موثر اور فوری عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ پاکستان کی برآمدات کو یورپی منڈیوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات بروئے کار لائے جائیں تاکہ تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکے اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے۔ اسحاق ڈار کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی معیارات کی پاسداری اور تجارتی تعلقات کا فروغ پاکستان کی مجموعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ اجلاس کے دوران، ڈپٹی وزیراعظم نے آنے والے اہم بین الاقوامی دوروں کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ ان دوروں کے دوران پاکستان کے معاشی مفادات کو ترجیح دی جائے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں۔ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی سفارت کاری کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بیرون ملک پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے مختلف ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے جدید حکمت عملی وضع کرنے کے احکامات جاری کیے۔ اس کے علاوہ، اسحاق ڈار نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے خدمات کی فراہمی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے مسائل کا حل نکالنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے وزارت خارجہ اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو جدید بنائیں تاکہ سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں پاکستانی شہریوں کو بلا تاخیر اور شفاف طریقے سے سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ آخر میں، ڈپٹی وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت ملکی برآمدات کو بڑھانے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ مل کر کام کریں تاکہ جی ایس پی پلس کے فوائد کو مکمل طور پر حاصل کیا جا سکے اور پاکستان کی صنعتی پیداوار کو عالمی منڈیوں کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ یہ اقدامات نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا باعث بنیں گے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کریں گے۔