LIVE
Loading Breaking News...

کیمبرج پروفیسر جیسن آرڈے پر الزام لگانے والے ناتھن کوفناس معطل

News Image
کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر جیسن آرڈے پر علمی سرقہ کے الزامات عائد کرنے والے ناتھن کوفناس کو یونیورسٹی کی جانب سے معطل کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امتیازی سلوک کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے ایک معروف اکیڈمک ناتھن کوفناس کو اس وقت معطلی کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے یونیورسٹی کے ایک دیگر پروفیسر جیسن آرڈے پر علمی سرقہ (Plagiarism) کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ناتھن کوفناس کے خلاف یہ تادیبی کارروائی امتیازی رویے اور تعصب پر مبنی الزامات کی تحقیقات کے پیش نظر کی گئی ہے۔ یونیورسٹی نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر تحقیقات مکمل ہونے تک کوفناس کو اپنے فرائض سے دور رہنے کا حکم دیا ہے۔ ناتھن کوفناس، جو اس سے قبل بھی اپنے متنازعہ خیالات اور بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں، نے پروفیسر جیسن آرڈے کے تعلیمی کام اور تحقیق پر سوالات اٹھائے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پروفیسر آرڈے کے کچھ کاموں میں مناسب حوالہ جات کا فقدان ہے اور یہ علمی دیانتداری کے اصولوں کے خلاف ہے۔ تاہم، یونیورسٹی کی جانب سے اس الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک خاص گروہ کے خلاف تعصب اور امتیازی سلوک کی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق، کوفناس کے رویے نے تعلیمی ماحول کے وقار کو متاثر کیا ہے۔ پروفیسر جیسن آرڈے، جو کیمبرج یونیورسٹی میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں، کو سماجی انصاف اور تعلیم کے شعبے میں ان کی خدمات کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان پر سرقہ کے الزامات کے بعد علمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو اس طرح کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سخت اور شفاف طریقہ کار اپنانا چاہیے تاکہ کسی بھی اکیڈمک کی شہرت کو نقصان نہ پہنچے۔ فی الحال، ناتھن کوفناس کی جانب سے اس معطلی پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ان کے وکلاء اور ساتھی اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ادارہ علمی آزادی کا احترام تو کرتا ہے، لیکن کسی بھی فرد کے خلاف توہین آمیز یا امتیازی رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس واقعے کے بعد کیمبرج یونیورسٹی میں علمی اخلاقیات اور آزادیِ اظہار کی حدود کے حوالے سے ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ اس معاملے کا مستقبل کیا ہوگا اور کیا ناتھن کوفناس اپنی پوزیشن برقرار رکھ پائیں گے یا نہیں۔