LIVE
Loading Breaking News...

شام میں وائٹ ہیلمٹس کارکن کی ہلاکت: ذمہ دار پولیس اہلکار گرفتار

News Image
شام میں وائٹ ہیلمٹس کے ایک امدادی کارکن کی دوران حراست موت کے معاملے پر حکام نے ایک پولیس افسر کو حراست میں لے لیا ہے۔ متاثرہ شخص ہیموفیلیا جیسے طبی عارضے میں مبتلا تھا جس کے باوجود اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
شام کی مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی حکام نے حال ہی میں وائٹ ہیلمٹس کے ایک امدادی کارکن محمد غمیرہ کی دوران حراست ہلاکت کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، محمد غمیرہ کو حکام کی حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہو گئی۔ یہ واقعہ شام میں انسانی حقوق کی صورتحال اور حکومتی حراستی مراکز میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید سوالات اٹھاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کو پہلے سے خبردار کیا گیا تھا کہ محمد غمیرہ ہیموفیلیا (haemophilia) نامی ایک نایاب طبی مرض میں مبتلا ہیں، جس کے باعث ان کے جسم میں خون جمنے کی صلاحیت انتہائی کم ہوتی ہے اور معمولی چوٹ بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اس طبی حالت سے آگاہ ہونے کے باوجود، حراست کے دوران ان پر مبینہ طور پر تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں اندرونی خون بہنے سے ان کی حالت تشویشناک ہوگئی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اس افسوسناک واقعے نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور وائٹ ہیلمٹس کے ساتھیوں میں سخت غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ وائٹ ہیلمٹس، جو شام میں امدادی کارروائیوں اور تباہی کے بعد ریسکیو مشنز کے لیے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں، نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران انسانیت کی خدمت کرنے والے کارکنوں کے ساتھ حراست میں ایسا غیر انسانی سلوک کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، گرفتار ہونے والے پولیس اہلکار سے ابتدائی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس تشدد کے احکامات کسی اعلیٰ حکام کی طرف سے دیے گئے تھے یا یہ عمل ذاتی نوعیت کا تھا۔ انسانی حقوق کے ماہرین کا مطالبہ ہے کہ شام کی جیلوں میں قید دیگر افراد کی طبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ فی الحال متعلقہ حکام نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، تاہم عوامی حلقوں میں اس کیس کی شفاف سماعت کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔