LIVE
Loading Breaking News...

نیوزی لینڈ وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز چینی نژاد قانون ساز بیان تنازع

News Image
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے چینی نژاد قانون ساز لارنس ژو نان کے ساتھ تلخ کلامی کے دوران انہیں اپنے ملک واپس جانے کا کہہ دیا۔ اس بیان کے بعد بیجنگ کے سفیر اور نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی جنگ شروع ہو گئی ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ اور پاپولسٹ جماعت 'نیوزی لینڈ فرسٹ' کے رہنما ونسٹن پیٹرز پارلیمنٹ میں کووڈ وبائی امراض سے متعلق پالیسی پر بحث کے دوران ایک چینی نژاد قانون ساز کو 'اپنے ملک واپس جانے' کا کہہ کر شدید تنازع میں گھر گئے ہیں۔ یہ واقعہ بدھ کے روز اس وقت پیش آیا جب گرین پارٹی کے چینی نژاد رکن لارنس ژو نان نے ونسٹن پیٹرز سے سوال کیا کہ کیا وہ ویکسین شدہ ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ونسٹن پیٹرز نے غصے میں آ کر کہا کہ وہ قانون ساز جو چین کے شہر تیانجن میں پیدا ہوئے لیکن آکلینڈ میں پلے بڑھے، وہ یہاں 'پانچ منٹ پہلے آئے ہیں' اور انہیں اپنے ملک واپس چلے جانا چاہیے۔ ونسٹن پیٹرز نے مزید طنزیہ انداز میں کہا کہ یہاں جمہوریت ہے، اس نظام کے برعکس جس کے وہ عادی ہیں۔ اس بیان پر چین کے سفیر وانگ ژیاولوং نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ وہ ملکی سیاست سے دور رہنا پسند کرتے ہیں لیکن بعض اوقات ایسے بیانات دینے والے کی اپنی حقیقت کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ سفیر کے اس بیان کے بعد ونسٹن پیٹرز نے بھی فوری جوابی وار کیا اور کہا کہ چینی سفیر کے تبصرے نے ان کے نقطہ نظر کو ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ایسے جمہوری معاشرے میں رہتے ہیں جہاں آزادی اظہار اور حقوق حاصل ہیں، اور اگر اس طرح کی باتیں کمیونسٹ حامیوں کو ناگوار گزرتی ہیں تو نیوزی لینڈ میں ان کا خیرمقدم ہے۔ نیوزی لینڈ کی سیاست میں اس طرح کے متنازع اور نسل پرستانہ بیانات کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ رواں سال کے شروع میں بھی ونسٹن پیٹرز اور ان کی جماعت کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے اس طرح کے متنازع بیانات دیے جا چکے ہیں جن پر سیاسی حلقوں کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین واقعے سے نیوزی لینڈ اور چین کے سفارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ بیجنگ کے سفیر کی طرف سے براہ راست مداخلت انتہائی غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔