LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں آئل ٹینکر پر حملہ، صومالی قزاقی کا نیا لہر

News Image
یمن کے قریب سمندری حدود میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک آئل ٹینکر کو اغوا کر کے صومالیہ کی جانب موڑ دیا ہے۔ بحیرہ عرب اور خلیج عدن میں بڑھتی ہوئی بحری قزاقی نے عالمی تجارت اور جہاز رانی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
برطانیہ کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے حال ہی میں ایک تشویشناک واقعے کی تصدیق کی ہے جس میں یمن کے ساحل کے قریب مسلح افراد نے ایک کمرشل آئل ٹینکر پر قبضہ کر لیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، 'سی مل' (Seamull) نامی ٹینکر کو اس کے طے شدہ راستے سے ہٹا کر صومالیہ کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیج عدن اور اس کے ملحقہ سمندری راستوں پر بحری قزاقوں کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے، جو عالمی سمندری تجارت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ میری ٹائم سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، یہ حملہ خطے میں جاری سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے خلیج عدن میں جہاز رانی کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ صومالی ساحلوں کے قریب متحرک مسلح گروہ ہیں جو بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ اس واقعے کے بعد بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے الرٹ جاری کر دیا ہے اور تمام بحری کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس روٹ سے گزرتے ہوئے انتہائی احتیاط برتیں اور حفاظتی پروٹوکولز کو سخت کریں۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ بحیرہ عرب میں سیکیورٹی انتظام کی طرف مبذول کروا دی ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی بحری دستے اس خطے میں گشت کرتے رہتے ہیں، تاہم قزاقوں کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیت اور تیزی سے حملے کرنے کے انداز نے سیکیورٹی فورسز کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صومالیہ میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران براہِ راست اس بحری دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں۔ ٹینکر پر قبضے کے بعد اب بین الاقوامی سطح پر اس بات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ سمندری حدود کی نگرانی کو مزید سخت کیا جائے تاکہ عالمی سپلائی چین کو محفوظ بنایا جا سکے۔ حکام نے ابھی تک اس حملے کے پیچھے موجود گروپ کی واضح شناخت نہیں کی ہے، تاہم شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی منظم قزاقوں کے گروہ کی طرف سے کی گئی ہے۔ فی الحال ٹینکر کا عملہ اور اس پر موجود کارگو کی بازیابی کے لیے رابطے اور کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سمندری تجارت کو لاحق خطرات اب بھی موجود ہیں اور ان پر قابو پانے کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان تعاون اور مربوط حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔