Pakistan
کراچی میں وکلاء کا احتجاج: ٹریفک جام اور راستوں کی بندش
کراچی میں وکلاء کے احتجاج کے دوران پی آئی ڈی سی اور وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے۔ احتجاج کے باعث شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی شدید روانی متاثر ہوئی اور شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے پڑے۔
کراچی میں جمعرات کے روز وکلاء کی جانب سے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر شہر کے اہم ترین کاروباری و انتظامی مرکز پی آئی ڈی سی (PIDC) کے اطراف کی سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا، جس سے شہر بھر میں ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ مظاہرین کا ہجوم وزیراعلیٰ سندھ ہاؤس کی جانب بڑھ رہا تھا، جس کی وجہ سے پولیس کی بھاری نفری، بشمول خواتین پولیس اہلکار، سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے لیے تعینات کی گئی۔ ٹریفک پولیس کے مطابق ایم ٹی خان روڈ، سلطان آباد ٹریفک پوسٹ سے پی آئی ڈی سی چوک تک، اور ایوانِ صدر روڈ کو فاؤنٹین چوک سے تھانہ گلی تک عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ الرٹس میں شہریوں کو متبادل راستے اپنانے کی ہدایت کی گئی۔ ڈاکٹر ضیاء الدین احمد روڈ کی دونوں لینز کو پی آئی ڈی سی سے ضیاء الدین سگنل تک بند کیے جانے سے خیابانِ اقبال روڈ، تین تلوار سے سندھ کلب چوک اور فاؤنٹین چوک تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ اس کے علاوہ سندھ کلب روڈ، دین محمد وفائی روڈ اور جناح برج کے اطراف میں بھی ٹریفک کا شدید دباؤ دیکھا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ حالات کو کنٹرول کرنے اور ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنے کے لیے موقع پر موجود ہے، تاہم احتجاجی ریلی کے باعث گاڑیوں کی نقل و حمل انتہائی سست روی کا شکار رہی۔
وکلاء کے اس احتجاج کے پیچھے بنیادی طور پر 14 اہم مطالبات شامل ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ سندھ میں انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس یا صوبے بنائے جائیں تاکہ گڈ گورننس کو یقینی بنایا جا سکے۔ احتجاج میں شریک ایک وکیل نے بتایا کہ مطالبات میں کارپوریٹ فارمنگ میں سرکاری مداخلت کا خاتمہ، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم، کارونجھر میں معدنیات کی کان کنی کے خلاف اقدامات اور سیاسی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ واضح رہے کہ سندھ میں صوبوں کی تقسیم کا مطالبہ ماضی میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اٹھایا جاتا رہا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان طویل عرصے سے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتی آئی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی ان مطالبات کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ یہ احتجاج شہر میں جاری سیاسی کشیدگی اور انتظامی امور پر بڑھتے ہوئے تحفظات کی عکاسی کرتا ہے جس کے اثرات عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑ رہے ہیں۔