Politics
ٹرمپ کی بحریہ پالیسی اور سٹیم کیٹپلٹ کا متنازعہ فیصلہ
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی بحریہ کے جدید طیارہ بردار جہازوں میں سٹیم کیٹپلٹ سسٹم کو ترجیح دینے کے فیصلے پر ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تکنیکی حقائق کے بجائے محض ذاتی پسند اور فلمی اثرات کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران سامنے آنے والی رپورٹس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی بحریہ کے امور میں مبینہ 'جادوئی سوچ' کس طرح ایک بڑی الجھن کا باعث بن رہی ہے۔ خاص طور پر طیارہ بردار جہازوں میں سٹیم کیٹپلٹ ٹیکنالوجی کے حوالے سے ان کا اصرار ماہرین کے لیے شدید حیرانی کا باعث ہے۔ یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ ٹرمپ کے تکنیکی فیصلے جدید فوجی انجینئرنگ کے اصولوں کے بجائے محض ان کی ذاتی ترجیحات اور شاید ہالی ووڈ کی فلم 'ٹاپ گن' جیسے اثرات کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ بحریہ کے جدید ترین جہازوں میں برقی مقناطیسی کیٹپلٹ سسٹم (EMALS) کی تنصیب کے بجائے سٹیم سسٹم پر واپسی کے مطالبات کو تکنیکی ماہرین ایک بڑی تنزلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی بحریہ کے اندرونی ذرائع کے مطابق، سٹیم کیٹپلٹ سسٹم ایک قدیم ٹیکنالوجی ہے جسے جدید تقاضوں کے پیش نظر ترک کیا جا رہا تھا، تاکہ جہازوں کی کارکردگی اور طیاروں کے ٹیک آف کی رفتار کو بہتر بنایا جا سکے۔ ٹرمپ کا اس پر اصرار نہ صرف مالی اعتبار سے نقصان دہ ہے بلکہ یہ آپریشنل صلاحیتوں پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی نظام میں تبدیلی کا فیصلہ گہری سائنسی تحقیق اور تجربات کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی شخصیت کی خواہش پر، جو عسکری صلاحیتوں کو فلمی تصورات کے تابع کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
مزید برآں، یہ صورتحال امریکی بحریہ کے ان انجینئرز کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے جو پہلے ہی بجٹ اور تکنیکی پیچیدگیوں سے نبردآزما ہیں۔ اگر ٹرمپ کی خواہش کے مطابق سٹیم کیٹپلٹ کو دوبارہ پرائمری سسٹم بنایا جاتا ہے، تو اس سے نہ صرف وقت کا ضیاع ہوگا بلکہ بحریہ کی جدید جنگی تیاریوں میں بھی برسوں کا تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔ دفاعی امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سیاست کو عسکری ٹیکنالوجی کے فیصلوں میں شامل کیا گیا تو اس کے طویل مدتی اثرات امریکی بحریہ کی عالمی برتری کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا عسکری قیادت اس دباؤ کے سامنے ڈٹی رہتی ہے یا سیاسی خواہشات کی تکمیل کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوتی ہے۔