LIVE
Loading Breaking News...

چینی ہیومنائیڈ روبوٹس کا نیا دور: صنعتی اور گھریلو استعمال کے لیے تیار

News Image
بیجنگ میں منعقدہ ایک اہم کانفرنس میں چینی روبوٹ ساز کمپنیوں نے گھریلو اور صنعتی کاموں میں معاونت کرنے والے ہیومنائیڈ روبوٹس کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس ایونٹ میں ان ٹیکنالوجیز کو صرف تفریح کے بجائے اب وسیع تر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر زور دیا گیا۔
بیجنگ میں منعقد ہونے والی ایک بڑی ٹیکنالوجی کانفرنس کے دوران، چینی روبوٹ بنانے والی کمپنیوں نے اپنے جدید ترین ہیومنائیڈ یعنی انسانی شکل کے حامل روبوٹس کی نمائش کی ہے۔ ان روبوٹس کے مظاہرے کا بنیادی مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ اب یہ ٹیکنالوجی صرف تفریحی نمائشوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی زندگی اور تجارتی مقاصد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ کانفرنس کے دوران ان روبوٹس کو پارسلز کی چھانٹی کرنے، موبائل فونز کی پیکنگ کرنے اور گھر کے روزمرہ کے کاموں میں مدد کرتے ہوئے دکھایا گیا، جس نے شرکاء کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ اس ایونٹ میں 300 سے زائد مختلف ٹیکنالوجی کمپنیاں شریک ہوئیں، جہاں روبوٹکس کے شعبے میں ہونے والی جدید ترین پیشرفت پر بات چیت کی گئی۔ ماضی میں ہیومنائیڈ روبوٹس کو اکثر ایسے پروگراموں میں دیکھا جاتا تھا جہاں وہ صرف رقص کرنے یا لوگوں کا دل بہلانے کے کام آتے تھے، لیکن اب ان کمپنیوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اب چینی روبوٹکس انڈسٹری بڑے پیمانے پر صنعتی خودکاری (Industrial Automation) اور گھریلو خدمات کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، تاکہ لیبر کے مسائل حل کیے جا سکیں اور کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس تقریب کی ایک خاص بات این ویڈیا (Nvidia) کے سی ای او کی بیٹی کا دورہ بھی تھا، جس نے عالمی سطح پر اس ٹیکنالوجی ایونٹ کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔ این ویڈیا چونکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور روبوٹکس کے لیے درکار چپس اور ہارڈ ویئر فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، اس لیے اس صنعت کے اہم شخصیات کی موجودگی اس شعبے میں جاری عالمی مسابقت کی عکاسی کرتی ہے۔ چینی کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ وہ ہیومنائیڈ روبوٹس کے لیے جدید سافٹ ویئر اور سینسرز کا استعمال کر رہی ہیں تاکہ یہ مشینیں انسانوں کے ساتھ محفوظ طریقے سے کام کر سکیں اور مشکل کاموں کو آسانی سے سرانجام دے سکیں۔ آنے والے وقتوں میں ان روبوٹس کی مانگ میں مزید اضافے کا امکان ہے کیونکہ عالمی سطح پر سمارٹ فیکٹریوں اور گھریلو معاونت کرنے والی مشینوں کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ ٹیکنالوجی اپنے ابتدائی تجارتی مراحل میں ہے، لیکن بیجنگ کی اس نمائش نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چین اس میدان میں تحقیق اور ترقی کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ مستقبل قریب میں ہم ان روبوٹس کو اپنے دفاتر اور گھروں میں ایک عام معاون کے طور پر دیکھ سکیں گے، جو انسانی زندگی کو مزید سہل بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔