Business
توانائی کی پالیسیاں اور سرمایہ کاری کا فروغ - نیکسورا نیوز
وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ ملک کے اپ اسٹریم سیکٹر میں بیرونی اور ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مستقل توانائی کی پالیسیوں کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے مختلف معاشی امور اور ریفائنریز سے بات چیت کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلیاں بھی کی ہیں۔
وفاقی وزیر نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کے اپ اسٹریم سیکٹر میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مستقل اور پائیدار توانائی کی پالیسیاں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار ہمیشہ ایسی معیشتوں کا رخ کرتے ہیں جہاں حکومتی پالیسیوں میں تسلسل اور طویل مدتی استحکام پایا جاتا ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں نئے منصوبے شروع کرنے میں مدد ملتی ہے۔
دوسری جانب ملک میں توانائی اور ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ریفائنریز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں تیس سے बतीس روپے تک نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے، جس سے عوام اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو کچھ ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی مختلف بین الاقوامی اور مقامی عوامل کی بنیاد پر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی اضافے کے اقدامات بھی دیکھے گئے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پالیسی سازوں کو طویل مدتی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے ملک درآمدی ایندھن پر زیادہ انحصار کرتا ہے، جسے کم کرنے کے لیے اپ اسٹریم سیکٹر کی بہتری اور سازگار کاروباری ماحول کی فراہمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس شعبے پر توجہ دینا ملکی معیشت کی بہتری کی طرف ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔