Pakistan
پاکستان کی آبادی 2040 تک 400 ملین ہونے کا خدشہ، صحت کے وزیر کا انتباہ
وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرت نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر 2040 تک پاکستان کی آبادی 40 కోట్ల (400 ملین) تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی اور زچگی و طفلی صحت کو بہتر بنانے کے لیے قومی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد: وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرت نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ شرحِ نمو جاری رہی تو پاکستان کی آبادی سال 2040 تک 400 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے تارلائی میں بیسک ہیلتھ یونٹ (بی ایچ یو) کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے عوامی سطح پر آگاہی اور انفرادی ذمہ داری کا احساس ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زچگی اور بچوں کی صحت کے مؤثر اقدامات اور خاندانی منصوبہ بندی اب ایک اہم ترین قومی ترجیح بن چکے ہیں، جن پر تاخیر کے بغیر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مختار احمد بھرت نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آبادی میں اضافے کی رفتار کو روکنے اور اس شعبے میں پالیسی مداخلت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک قومی کونسل تشکیل دی ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ خاندان بڑھانے سے پہلے اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں کہ آیا ان کے پاس بچوں کو مناسب خوراک، معیاری تعلیم، بروقت ویکسینیشن، صحت کی سہولیات اور بہتر پرورش فراہم کرنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں یا نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایک صحت مند اور خوشحال معاشرہ اسی صورت میں تشکیل پا سکتا ہے جب ہر بچہ اپنے بنیادی حقوق سے پوری طرح مستفید ہو سکے۔
خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر مملکت نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں مانع حمل جدید طریقوں کا استعمال سعودی عرب، ایران اور ترکیہ سمیت کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں تاحال کم ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ محفوظ اور مؤثر خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کا محدود استعمال غیر ارادی حمل کا باعث بنتا ہے، جس سے غیر محفوظ اسقاط حمل کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے اور خواتین کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے صحت کے نظام پر بھی اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ایک صحت مند ماں ہی صحت مند خاندان اور مضبوط قوم کی بنیاد ہوتی ہے۔
اپنے خیالات کا اظہار جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر بھرت نے تمام پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے خاندانی منصوبہ بندی کو ذمہ داری اور گہری آگاہی کے ساتھ اپنائیں۔ دریں اثنا، وزارت صحت کے ایک ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ حکومتِ چین نے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے تعاون سے حکومتِ پاکستان کو تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی ادویات، طبی سامان اور آلات کی مد میں 2 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے، جو اس قومی مشن میں معاون ثابت ہوگی۔