Business
نیوی ٹیکنالوجیز کا 100 ملین ڈالر کا فنڈنگ راؤنڈ مکمل
فلپ کارٹ کے شریک بانی سچن بنسل کی فن ٹیک کمپنی نیوی ٹیکنالوجیز نے ایک بڑے فنڈنگ راؤنڈ میں 100 ملین ڈالر حاصل کر لیے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری کمپنی کی جانب سے ابتدائی پبلک آفرنگ یعنی آئی پی او لانے کی تیاریوں کا حصہ ہے۔
بنگلورو میں قائم معروف فن ٹیک کمپنی ’نیوی ٹیکنالوجیز‘، جسے فلپ کارٹ کے شریک بانی سچن بنسل نے قائم کیا ہے، نے ایک اہم پیش رفت کے دوران پروسس (Prosus) سے 100 ملین ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے۔ یہ نیوی ٹیکنالوجیز کا پہلا بڑا بیرونی فنڈنگ راؤنڈ ہے، جو کمپنی کی مالیاتی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس سرمایہ کاری کے ذریعے کمپنی کی ویلیو ایشن میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے مارکیٹ میں اس کی ساکھ کو مزید تقویت ملے گی۔
اس سودے کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ لین دین ابھی ریگولیٹری منظوریوں سے مشروط ہے، جس میں کمپیٹیشن کمیشن آف انڈیا (CCI) کی جانب سے کلیئرنس حاصل کرنا شامل ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پروسس جیسے بڑے عالمی سرمایہ کار کا اس کمپنی میں سرمایہ لگانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نیوی ٹیکنالوجیز کا بزنس ماڈل طویل مدتی کامیابی کے لیے تیار ہے۔ سچن بنسل کی قیادت میں یہ کمپنی تیزی سے اپنے مالیاتی خدمات کے نیٹ ورک کو وسعت دے رہی ہے، جس میں قرض کی فراہمی، انشورنس اور میوچل فنڈز جیسے شعبے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ یہ فنڈنگ راؤنڈ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیوی ٹیکنالوجیز ممکنہ طور پر ابتدائی پبلک آفرنگ (IPO) لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ آئی پی او کے ذریعے کمپنی کا مقصد عوامی سطح پر شیئرز فروخت کرکے سرمایہ اکٹھا کرنا ہے تاکہ اپنی تکنیکی صلاحیتوں اور آپریشنل دائرہ کار کو وسیع کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے کمپنی پہلے ہی مختلف ریگولیٹری مراحل سے گزر رہی ہے اور پروسس کی یہ سرمایہ کاری آئی پی او کے عمل کو مزید شفاف اور مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں فن ٹیک انڈسٹری انتہائی مسابقتی ہے، لیکن سچن بنسل کا تجربہ اور نیوی کی جانب سے کسٹمر سینٹرک اپروچ انہیں دیگر حریفوں پر سبقت دلاتی ہے۔ 100 ملین ڈالر کی یہ نئی سرمایہ کاری کمپنی کو ٹیکنالوجی میں بہتری لانے اور مارکیٹ شیئر بڑھانے کے لیے درکار وسائل فراہم کرے گی۔ آنے والے مہینوں میں نیوی ٹیکنالوجیز کی جانب سے مزید توسیعی منصوبوں کا اعلان متوقع ہے، جس سے کمپنی کے مستقبل کے آئی پی او روڈ میپ کی سمت مزید واضح ہو جائے گی۔