Business
چھوٹے کاروباروں کے لیے بینک فراڈ کا خطرہ، ویسٹ پیک کی رپورٹ جاری
ویسٹ پیک بینک کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق چھوٹے کاروباری ادارے بینک امپرسنیشن اسکیمز کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ اس طرح کی جعلسازی کے باعث کاروباری افراد کو گزشتہ ایک سال کے دوران مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آسٹریلیا کے معروف بینک ویسٹ پیک کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چھوٹے کاروباری ادارے سائبر مجرموں اور دھوکہ بازوں کا سب سے بڑا ہدف بن چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایسے کاروباری مراکز کو نشانہ بنانے کے واقعات میں 38 فیصد تک کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بینک امپرسنیشن اسکیمز، جن میں دھوکہ باز خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کر کے کاروباری افراد کو لوٹتے ہیں، موجودہ دور میں فراڈ کی سب سے خطرناک اور نقصان دہ قسم بن چکی ہیں۔
ویسٹ پیک کی جانب سے کیے گئے سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ سال رواں کے پہلے چھ مہینوں کے دوران بینک کے کاروباری صارفین کو سب سے زیادہ جعلی کالز اور پیغامات موصول ہوئے، جن کا مقصد انہیں حساس مالی معلومات فراہم کرنے پر مجبور کرنا تھا۔ اس طرح کی دھوکہ دہی میں ملوث افراد انتہائی مہارت سے بینک کے اصلی نمبر یا نام استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر کاروباری افراد ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ مالیاتی نقصان کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ دیگر تمام اقسام کی دھوکہ دہی کے مقابلے میں بینک امپرسنیشن اسکیمز کے ذریعے کاروباری اداروں کو سب سے زیادہ رقم کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ماہرین کے مطابق، چھوٹے کاروبار اس لیے زیادہ غیر محفوظ ہیں کیونکہ ان کے پاس بڑے اداروں کی طرح جدید ترین سائبر سیکیورٹی نظام اور تربیت یافتہ عملہ موجود نہیں ہوتا۔ اکثر چھوٹے کاروباری مالکان کام کے دباؤ کے باعث ایسی جعلی ای میلز یا پیغامات کی تصدیق نہیں کر پاتے اور فوری طور پر کارروائی کرنے کے چکر میں اپنی جمع پونجی گنوا بیٹھتے ہیں۔ ویسٹ پیک نے اپنے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی بینک کبھی بھی فون پر ان سے پاس ورڈ یا ٹو-فیکٹر آتھنٹیکیشن کوڈز کا مطالبہ نہیں کرتا۔
بینک نے کاروباری برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی معلومات کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی مشکوک کال یا پیغام کی صورت میں فوری طور پر بینک کی باضابطہ ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔ اس کے علاوہ، آن لائن ٹرانزیکشنز کے دوران دوہرا حفاظتی نظام (2FA) فعال کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ویسٹ پیک حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صارفین کی حفاظت کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرز متعارف کروا رہے ہیں تاہم انفرادی سطح پر بیداری ہی اس بڑھتے ہوئے خطرے کو کم کرنے کا واحد حل ہے۔