LIVE
Loading Breaking News...

امریکی بندرگاہ پر جوہری توانائی سے چلنے والے جہازوں کی تیاری کا آغاز

News Image
پورٹ آف کارپس کرسٹی نے امریکی میری ٹائم سیکٹر میں جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے حکومتی منصوبے کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بحری جہاز رانی میں جوہری توانائی کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لینا اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنا ہے۔
امریکی ریاست ٹیکساس کی اہم بندرگاہ 'پورٹ آف کارپس کرسٹی' نے اب جوہری توانائی سے چلنے والی شپنگ کے شعبے میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پورٹ انتظامیہ نے امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد امریکی بحری صنعت میں جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات کا گہرائی سے جائزہ لینا ہے۔ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا بنیادی مقصد مستقبل کی جہاز رانی کو جدید اور ماحول دوست توانائی کے ذرائع سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ماہرین اور انجینئرز کی ایک ٹیم اس بات کا تجزیہ کرے گی کہ آیا بڑی تجارتی بندرگاہوں پر جوہری ری ایکٹرز سے لیس جہازوں کی آمدورفت کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال نہ صرف طویل فاصلے تک سفر کرنے والے کارگو جہازوں کی کارکردگی میں اضافہ کرے گا بلکہ یہ روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ حکام کا ماننا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہتا ہے تو عالمی تجارت کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو گا، جس سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی لانا ممکن ہوگا۔ تاہم، اس منصوبے کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں جن پر پورٹ انتظامیہ اور امریکی حکام غور کر رہے ہیں۔ جوہری توانائی کے استعمال میں سیکیورٹی، حفاظت اور تابکاری سے بچاؤ کے سخت ترین بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد لازمی ہے۔ معاہدے کے مطابق، ابتدائی مراحل میں فزیبلٹی اسٹڈی کی جائے گی جس کے دوران ممکنہ خطرات اور فوائد کا مکمل موازنہ کیا جائے گا۔ اس اقدام کو عالمی میری ٹائم سیکٹر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل جوہری توانائی کا استعمال بنیادی طور پر فوجی جہازوں تک ہی محدود رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں پورٹ آف کارپس کرسٹی کی جانب سے اس پروجیکٹ کے مزید تکنیکی پہلوؤں کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ یہ منصوبہ نہ صرف امریکہ کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہے بلکہ یہ دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال ثابت ہو سکتا ہے جو اپنے بحری نیٹ ورک کو جدید تر بنانے کے خواہاں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جوہری توانائی سے چلنے والے تجارتی جہاز مستقبل میں عالمی سپلائی چین کو مزید مستحکم اور تیز رفتار بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ پورٹ انتظامیہ اس پیش رفت کو اپنی بندرگاہ کی صلاحیتوں میں اضافے اور تکنیکی جدت کی جانب ایک بڑا قدم قرار دے رہی ہے۔