Pakistan
راولا کوٹ تشدد: ایچ آر سی پی اور ایمنسٹی کا آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آزاد کشمیر کے علاقے راولا کوٹ میں ہونے والے پُرتشدد واقعات اور جانی نقصان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں اداروں نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور خطے میں مواصلاتی بلیک آؤٹ ختم کرنے پر زور دیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے علاقے راولا کوٹ میں حالیہ مظاہروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ناخوشگوار واقعات کی فوری، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور طاقت کے مبینہ بے جا استعمال کے ذمہ داروں کا کاتعین کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ راولا کوٹ اور میرپور میں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ یہ تمام صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مختلف مطالبات بالخصوص مقبوضہ کشمیر سے مہاجرین کے لیے مخصوص قانون ساز اسمبلی کی 12 نشستوں کو ختم کرنے کے مطالبے پر کئی ہفتوں سے احتجاج جاری تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس تمام تر بدامنی کے پیچھے چند ایسے عناصر کارفرما ہیں جو غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور جنہیں مبینہ طور پر بھارتی فنڈنگ حاصل ہے۔ دوسری جانب جاری کردہ بیانات میں انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ریاست کو امن و امان بحال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے لیکن یہ اقدام کسی بھی صورت میں زندگی کے بنیادی حق، پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس موقع پر خطے میں نافذ مواصلاتی بلیک آؤٹ کو فوری طور پر ختم کرنے اور انٹرنیٹ و موبائل سروسز کی مکمل بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔ ایمنسٹی کی ترجمان کا کہنا تھا کہ مواصلاتی معطلی کی وجہ سے زمینی حقائق اور جانی نقصان کی آزادانہ تصدیق میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دریں اثنا، مظفرآباد ڈویژن کے بعض حصوں میں تقریباً چونتیس دن کی طویل معطلی کے بعد انٹرنیٹ سروسز جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہیں جس پر مقامی رہائشیوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ تاہم، شہریوں اور کاروباری حلقوں کی جانب سے اب بھی یہ شکاات کی جا رہی ہیں کہ موبائل ڈیٹا کی رفتار انتہائی سست ہے اور تمام علاقوں میں مواصلاتی نظام کو مکمل فعال بنایا جانا چاہیے۔ وفاقی اور علاقائی حکام اس تمام معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ انتخابات کے مختلف مراحل بھی جاری ہیں جن کے دوران امن و امان کی بحالی کو اولین ترجیح قرار دیا جا رہا ہے۔