Business
نیوزی لینڈ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی: یونگ وانگ کا نقطہ نظر
چائنا کنسٹرکشن بینک کے ماہر یونگ وانگ نے نیوزی لینڈ کے انفراسٹرکچر میں موجود خلیج کو دور کرنے کے لیے جدید حکمت عملیوں پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایکسپریس ویز، ریلوے اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
نیوزی لینڈ میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور اس میں موجود وسیع تر خلا کو پُر کرنے کے حوالے سے چائنا کنسٹرکشن بینک کے ممتاز ماہر یونگ وانگ نے اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کو اپنی معاشی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ایکسپریس ویز، ہائی اسپیڈ ریلوے، میٹرو اور لائٹ ریل جیسے جدید ٹرانسپورٹ کے نظام میں بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ نیوزی لینڈ کے جغرافیائی حالات اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ان منصوبوں کی تکمیل وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ یونگ وانگ کے مطابق، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی توسیع سے بین الاقوامی تجارت میں بھی بہتری آئے گی، جس سے ملکی برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا۔
اس کے علاوہ، توانائی کا شعبہ بھی مستقبل کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ یونگ وانگ نے خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے ذرائع جیسے کہ فوٹو وولٹک (PV) سیلز، ونڈ انرجی اور ہائیڈروجن ٹیکنالوجی پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے ذخیرہ کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھانا، جس میں پمپڈ ہائیڈرو الیکٹرکٹی اور بیٹری اسٹوریج شامل ہیں، نیوزی لینڈ کو مستقبل میں توانائی کے بحران سے بچا سکتے ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ ملک کو خود کفیل بنانے میں بھی مددگار ہوں گے۔
آخر میں، یونگ وانگ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ نیوزی لینڈ کو انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں کے لیے نجی اور سرکاری شراکت داری (PPP) کے ماڈل کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ مالیاتی وسائل کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر نیوزی لینڈ حکومت اپنی حکمت عملی میں شفافیت اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو شامل کرے، تو بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں موجود خلا کو تیزی سے کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ اقدامات ملک کو دنیا بھر میں مسابقتی برتری دلانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے معیار زندگی میں بھی نمایاں بہتری لانے کا باعث بنیں گے۔