LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان قومی اسمبلی: فوج اور نیوکلیئر کمانڈ سے متعلق نئے قوانین کی منظوری

News Image
قومی اسمبلی نے ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس موقع پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی بلوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔
پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک اہم قانون سازی کے عمل کے دوران دفاعی امور اور نیوکلیئر کمانڈ ڈھانچے سے متعلق دو اہم بل کثرت رائے سے منظور کر لیے ہیں۔ ان بلوں میں 'ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026' اور 'نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010' میں ترامیم شامل ہیں۔ نئی قانون سازی کے تحت چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) کے اختیارات کو مزید واضح کیا گیا ہے، جس کے مطابق اب عاصم منیر مسلح افواج کے اہلکاروں کی بھرتی، برطرفی اور ریٹائرمنٹ کے معاملات میں کلیدی کردار ادا کر سکیں گے۔ یہ پیش رفت وفاقی کابینہ کی جانب سے بلوں کے ڈرافٹ کی منظوری کے بعد سامنے آئی ہے۔ قانون سازی کے اس عمل کے دوران ایوان میں کافی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن ارکان نے بلوں پر جلد بازی کا الزام لگاتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ اپوزیشن کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ اتنے حساس نوعیت کے معاملات پر پارلیمانی بحث کی ضرورت تھی، لیکن حکومت نے اسے یکطرفہ طور پر آگے بڑھایا۔ دوسری جانب، حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی ان بلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بلوں کے مسودے اور ان پر بحث کے طریقہ کار پر کھل کر تنقید کی، جس سے حکومتی اتحاد میں موجود خلیج بھی عیاں ہوئی۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کا مقصد ملکی جوہری اثاثوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام کو مزید مستحکم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں ملکی دفاعی ضروریات اور بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے تناظر میں ناگزیر تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید دفاعی تقاضوں کو پورا کرنے اور فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے یہ قانونی اصلاحات ضروری تھیں تاکہ قومی سلامتی کے امور پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ اس قانون سازی کے بعد اب مسلح افواج کے انتظامی اور تادیبی معاملات میں سی ڈی ایس کو وسیع تر اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بل نہ صرف دفاعی ڈھانچے کو ایک نیا رخ دیں گے بلکہ مستقبل میں فوج کے اندرونی نظم و نسق اور کمانڈ کے معاملات کو بھی نئے قانونی فریم ورک کے تحت چلائیں گے۔ تاہم، سیاسی حلقوں میں اس قانون سازی کے اثرات اور طریقہ کار پر بحث بدستور جاری ہے، اور اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق اہم فیصلوں میں جمہوری مشاورت کا عمل یقینی بنایا جائے۔