LIVE
Loading Breaking News...

امریکی معیشت: ٹریژری بانڈ بائے بیکس اور مارکیٹ کے اثرات

News Image
اسکاٹ بیسنٹ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکی ٹریژری بانڈز کی دوبارہ خریداری کا عمل 4 ارب ڈالر کی سطح کو عبور کر سکتا ہے۔ اس اعلان کے بعد مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور ٹریژری ییلڈز میں معمولی بحالی ہوئی ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والے مالیاتی اشاروں کے مطابق، امریکی ٹریژری کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے جہاں حکام کی جانب سے بانڈز کی دوبارہ خریداری (Buybacks) کا عمل 4 ارب ڈالر کی حد کو عبور کر سکتا ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے دیے گئے حالیہ اشاروں نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے، جس سے بانڈ مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ابتدائی طور پر اس خبر کے اثرات مارکیٹ میں دیکھے گئے، جہاں ٹریژری ییلڈز میں کمی واقع ہوئی تھی، تاہم بعد ازاں ان میں دوبارہ بہتری دیکھنے میں آئی جس نے گزشتہ گراوٹ کے اثرات کو کافی حد تک زائل کر دیا۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ ٹریژری کی جانب سے طویل مدتی نوٹس (Long-term notes) کی خریداری میں اضافے کا مقصد بانڈ مارکیٹ میں استحکام لانا ہے۔ اس حکمت عملی کو مارکیٹ میں 'بیسنٹ پٹ' (Bessent Put) کے نام سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے، جو کہ ایک اہم مالیاتی مداخلت سمجھی جا رہی ہے۔ اگرچہ مارکیٹ کے انڈیکسز میں کچھ عرصے تک گراوٹ کا رجحان رہا تھا، لیکن حالیہ مداخلت کے بعد انڈیکسز میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری جانب، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹریژری کے اس اقدام سے جہاں مارکیٹ کو وقتی ریلیف ملے گا، وہیں طویل مدتی بنیادوں پر امریکی معیشت کے لیے یہ پالیسی کتنی سود مند ثابت ہوگی، اس پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ انویسٹوپیڈیا اور دیگر مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، بانڈ ییلڈز میں حالیہ کمی کا تعلق براہ راست ٹریژری کی ان خریداریوں سے ہے، جس نے مارکیٹ کے مجموعی مزاج کو تبدیل کر دیا ہے۔ مجموعی طور پر، سرمایہ کار اب ان حکومتی اقدامات کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ کیا 4 ارب ڈالر سے زائد کی یہ بائے بیک اسکیم مارکیٹ میں پائیدار استحکام لا سکے گی یا پھر افراط زر اور دیگر عالمی معاشی دباؤ کے پیش نظر مزید اقدامات کی ضرورت پڑے گی۔ فی الحال، وال سٹریٹ اور دیگر مالیاتی مراکز اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ اس کا براہ راست اثر عالمی مالیاتی نظام اور شرح سود پر پڑے گا۔