LIVE
Loading Breaking News...

جی سی ایس ای ری سیٹ پالیسی پر تنقید: کیا موجودہ تعلیمی نظام ناکام ہو چکا ہے؟

News Image
برطانیہ میں تعلیمی ماہرین اور کالج سربراہان نے مطالبہ کیا ہے کہ جی سی ایس ای کے دوبارہ امتحانات کا موجودہ طریقہ کار تبدیل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بے نتیجہ سلسلہ طلباء کی تعلیمی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
برطانیہ میں اسکولوں اور کالجوں کے سربراہان نے جی سی ایس ای (GCSE) کے دوبارہ امتحانات کے موجودہ نظام پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر موثر قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر طلباء کو ریاضی اور انگریزی کے مضامین میں دوبارہ امتحان دینے پر مجبور کرنا ایک ایسا بے رحم چکر ہے جو طلباء کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے ان کے حوصلے پست کر رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جو طلباء پہلی بار ان امتحانات میں شریک ہوتے ہیں، ان کی کامیابی کی شرح ان طلباء کے مقابلے میں کافی بہتر ہوتی ہے جو ناکامی کے بعد دوسری یا تیسری بار دوبارہ امتحان دیتے ہیں۔ تعلیمی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ موجودہ پالیسی اس بنیادی مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہے کہ آخر طلباء کو ان مضامین میں دشواری کیوں پیش آتی ہے۔ بار بار امتحانات میں شریک ہونے سے طلباء پر ذہنی دباؤ بڑھتا ہے اور اکثر طلباء اپنی تعلیم کے طویل مدتی اہداف سے توجہ ہٹا کر صرف ان مخصوص مضامین کے گرد گھومتے رہ جاتے ہیں۔ اسکول سربراہان نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت بہت سے طلباء تعلیمی بددلی کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے ان کے مستقبل کے کیریئر کے مواقع بھی محدود ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر تعلیمی اداروں کی جانب سے حکومت اور تعلیمی بورڈز پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ جی سی ایس ای کے ری سیٹ امتحانات کے لیے متبادل حکمت عملی اپنائیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صرف امتحان دوبارہ لینے کے بجائے طلباء کو بہتر تدریسی مدد فراہم کی جائے اور ایسی مہارتوں پر توجہ مرکوز کی جائے جو عملی زندگی میں کارآمد ثابت ہوں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو طلباء کا تعلیمی نظام پر اعتماد مزید کم ہو جائے گا، لہذا فوری طور پر پالیسی میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ہر طالب علم کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کے یکساں مواقع مل سکیں۔