World
بالی میں نیپی تہوار کی توہین، سوئس سیاح کو جیل کی سزا
انڈونیشیا کی عدالت نے بالی کے مقدس تہوار نیپی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد پوسٹ کرنے پر ایک سوئس سیاح کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس واقعے کے بعد مقامی حکام نے سیاحوں پر مقامی ثقافت اور مذہبی روایات کا احترام کرنے پر زور دیا ہے۔
انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے بالی میں ایک غیر ملکی سیاح کو مقامی ثقافت اور مذہبی روایات کا احترام نہ کرنے پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک سوئس شہری کو بالی کے مقدس ترین دن ’نیپی‘ (خاموشی کا دن) کے دوران سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد پوسٹ کرنے پر ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق سیاح کا یہ عمل نہ صرف مقامی آبادی کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف تھا بلکہ یہ انڈونیشیا کے سخت قوانین کی بھی خلاف ورزی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ بالی آنے والے تمام غیر ملکی سیاحوں کو مقامی مذہبی رسومات کا احترام کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی توہین آمیز سرگرمیوں سے گریز کرنا ان کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب ملزم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نیپی کے دوران کیے جانے والے اقدامات کو مذاق کا نشانہ بنایا۔ نیپی کا دن بالی کے ہندو مذہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، جس میں مکمل خاموشی، روزے اور مراقبے کے ذریعے روحانی تزکیہ حاصل کیا جاتا ہے۔ اس دن جزیرے بھر میں تمام کاروباری مراکز، ہوائی اڈے اور نقل و حمل کے ذرائع مکمل طور پر بند کر دیے جاتے ہیں تاکہ لوگ یکسوئی کے ساتھ عبادت کر سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سزا کا مقصد بین الاقوامی سیاحوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ بالی اپنی ثقافتی اقدار کے حوالے سے انتہائی حساس ہے اور وہاں کسی بھی قسم کی مذہبی بے حرمتی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس واقعے کے بعد سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد نے بھی غیر ملکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ سفر سے قبل مقامی قوانین اور روایات کے بارے میں آگاہی حاصل کریں تاکہ ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔