World
شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ
شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے حالیہ تجربے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جنوبی کوریا نے صورتحال کے پیش نظر ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
شمالی کوریا کی جانب سے ایک بار پھر بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا گیا ہے جس کے بعد جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کی نئی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ یہ میزائل ایسے وقت میں فائر کیے گئے ہیں جب امریکہ اور جنوبی کوریا اپنی مشترکہ فوجی مشقوں کے آخری مراحل مکمل کر رہے ہیں۔ فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام شمالی کوریا کی جانب سے واشنگٹن اور سیول کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اشتراک پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے میزائلوں کی نقل و حرکت کو مانیٹر کیا ہے اور ملک کے دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
اس پیش رفت کے فوراً بعد جنوبی کوریا کے اعلیٰ حکام نے ایک ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کیا ہے جس میں میزائلوں کی نوعیت اور ان سے لاحق خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں عسکری قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ جنوبی کوریا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور سیکیورٹی صورتحال کی نگرانی جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کے اس میزائل تجربے کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیانگ یانگ کو اپنی پالیسیوں کی جانب مائل کرنے کی کوششوں پر اثر انداز ہونا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی مذاکرات کی بحالی کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم پیانگ یانگ کی جانب سے ایسے میزائل تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی عسکری طاقت کو کم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی پر عالمی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
مستقبل قریب میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا یہ میزائل تجربہ شمالی کوریا کی ایک روایتی دفاعی مشق ہے یا پھر یہ امریکہ کے ساتھ ہونے والی کسی نئی سفارتی پیش رفت پر کوئی سیاسی ردعمل ہے۔ فی الحال، جنوبی کوریا اور امریکہ نے اپنے دفاعی روابط کو مزید مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ خطے میں موجود عالمی طاقتیں بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ان میزائل تجربات کے اثرات براہ راست مشرقی ایشیا کے تجارتی اور سیکیورٹی معاملات پر مرتب ہو رہے ہیں۔