Technology
فلاک سیفٹی کی نئی اے آئی ٹیکنالوجی اور پرائیویسی کے خطرات
فلاک سیفٹی کمپنی کا نیا اے آئی ٹول لائسنس پلیٹ ریڈرز کے دائرہ کار کو وسیع کر رہا ہے جس سے پرائیویسی کے حوالے سے تحفظات پیدا ہو گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی لوگوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
متنازعہ نگرانی ٹیکنالوجی کمپنی 'فلاک سیفٹی' ایک بار پھر خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ کمپنی نے طویل عرصے تک یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کے خودکار لائسنس پلیٹ ریڈرز (ALPR) کسی بھی فرد کے چہرے کو پہچاننے یا ٹریک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ تاہم، اب کمپنی کی جانب سے متعارف کرایا گیا نیا مصنوعی ذہانت (AI) ٹول ان دعووں کو مشکوک بنا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اب صرف گاڑیوں کی نمبر پلیٹس تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کی صلاحیتیں کہیں زیادہ وسیع ہو چکی ہیں، جو عوامی مقامات پر نجی زندگی کی حفاظت کے حوالے سے ایک سنگین چیلنج بن سکتی ہیں۔
اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے فلاک سیفٹی کے کیمرے اب گاڑیوں کے مخصوص ماڈلز، رنگوں، اور یہاں تک کہ گاڑیوں پر لگے اسٹیکرز یا دیگر علامات کو بھی سیکنڈوں میں شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ کمپنی اسے جرائم کی روک تھام کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دے رہی ہے، لیکن پرائیویسی کے علمبردار اسے ایک 'ڈیجیٹل جال' سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ایک کیمرہ سسٹم کسی شخص کی گاڑی کو ہر موڑ پر ٹریک کر سکتا ہے، تو یہ ایک طرح سے انسانوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھنے کے مترادف ہے، چاہے وہ براہِ راست چہرہ نہ بھی پہچان رہا ہو۔
ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں کے مطابق، فلاک سیفٹی کا یہ سسٹم اب 'فنگر پرنٹنگ' کی طرح کام کر رہا ہے، جہاں گاڑی کی شناخت ہی اس کے مالک کی شناخت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہ صورتحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تو مدد فراہم کرتی ہے، لیکن عام شہریوں کے لیے یہ ایک خوفناک منظرنامہ ہے جہاں ان کی ہر سرگرمی کا ریکارڈ ایک مرکزی ڈیٹا بیس میں جمع ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کی نگرانی کے لیے کوئی شفاف قانونی فریم ورک موجود ہے، یا پھر یہ ٹیکنالوجی کسی بھی ضابطہ اخلاق کے بغیر شہریوں کی آزادی کو محدود کر رہی ہے؟
مستقبل میں، جیسے جیسے فلاک سیفٹی اپنی اے آئی کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرے گی، ڈیٹا کے غلط استعمال کے خدشات میں بھی اضافہ ہو گا۔ اگرچہ کمپنی کا موقف ہے کہ وہ ڈیٹا کا استعمال صرف عوامی تحفظ کے لیے کرتی ہے، لیکن سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیٹا کا یہ ذخیرہ ہیکرز یا غلط ہاتھوں میں جانے کی صورت میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتیں اور ٹیکنالوجی ریگولیٹرز اس قسم کے نگرانی کرنے والے آلات کے استعمال کے لیے سخت ضوابط وضع کریں تاکہ عوامی تحفظ اور ذاتی آزادی کے درمیان ایک متوازن راستہ نکالا جا سکے۔