LIVE
Loading Breaking News...

عالمی معیار کی ایجادات کیسے تخلیق کی جائیں؟ ماہرین کی تجاویز

News Image
اموس ونٹر کی نئی کتاب عالمی منڈیوں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان توازن قائم کرنے والی ایجادات کے ڈیزائن پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ کس طرح سوچ بچار اور خاص حکمت عملی کے تحت تیار کردہ مصنوعات سرحدوں کے پار یکساں مقبولیت حاصل کر سکتی ہیں۔
موجودہ دور میں ایک ایسی اختراع تخلیق کرنا جو بیک وقت ترقی پذیر ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی یافتہ، زیادہ آمدنی والے ممالک میں کامیابی حاصل کر سکے، ایک پیچیدہ لیکن انتہائی اہم چیلنج ہے۔ اموس ونٹر، جو جرسمہاؤسن کے پروفیسر اور ماہرِ میکینیکل انجینئرنگ ہیں، اپنی نئی کتاب میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سرحد پار کرنے والی ایجادات کے لیے ایک انتہائی محتاط اور مربوط ڈیزائن کے عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جو کمپنیاں صرف ایک قسم کی مارکیٹ کو ذہن میں رکھ کر مصنوعات تیار کرتی ہیں، وہ اکثر عالمی سطح پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ کتاب میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں صارفین کی ضروریات اور وسائل ترقی یافتہ ممالک سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ ایک کامیاب اختراع کار کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کم لاگت میں اعلیٰ معیار فراہم کرنا ہی وہ کلید ہے جو کسی بھی پروڈکٹ کو عالمی شناخت دلا سکتی ہے۔ ونٹر کے مطابق، ڈیزائن کے عمل میں صارفین کی حقیقی مشکلات کو سمجھنا، مقامی حالات کا مطالعہ کرنا اور پھر ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا جو دنیا کے کسی بھی کونے میں قابل عمل ہو، کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کئی کیس اسٹڈیز کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ کس طرح مقامی ضروریات کے مطابق تیار کردہ ٹیکنالوجی کو بہتر بنا کر عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، یہ مطالعہ کاروباری اداروں کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ وہ 'مقامی سے عالمی' (Local to Global) کے فلسفے کو اپنائیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مصنوعات میں تبدیلی لائی جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پروڈکٹ کا بنیادی ڈھانچہ اتنا لچکدار ہو کہ وہ مختلف معاشی سطحوں کے صارفین کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ تحقیق کے مطابق، جو کمپنیاں اپنی مصنوعات میں سادگی اور افادیت کو ترجیح دیتی ہیں، وہی مستقبل کے عالمی مقابلوں میں آگے رہتی ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف انجینئرز بلکہ کاروباری منصوبہ سازوں کے لیے بھی ایک مشعل راہ ہے جو اپنی مصنوعات کو دنیا بھر کے بازاروں تک پہنچانے کے خواہش مند ہیں۔ اختتامی طور پر، عالمی منڈیوں میں کامیابی کا دارومدار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں، بلکہ اس انسانی نقطہ نظر پر ہے جو ڈیزائن کے مرحلے میں اختیار کیا جاتا ہے۔ اموس ونٹر کا یہ کام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک بہترین ایجاد وہی ہے جو جغرافیائی حدود کی پابندیوں سے آزاد ہو کر انسانی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ کاروباری دنیا کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے ڈیزائن کے عمل میں ان باریکیوں کو شامل کریں تاکہ وہ سرحدوں سے ماورا ہو کر عالمی سطح پر اپنی ساکھ بنا سکیں۔