LIVE
Loading Breaking News...

کامکاسٹ راؤٹر میں موشن ڈیٹیکشن فیچر: آپ کے گھر کی سیکیورٹی یا جاسوسی؟

News Image
کامکاسٹ نے اپنے راؤٹرز کے لیے ایک نئی موشن ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جو گھر کے اندر حرکات و سکنات کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس فیچر کے متعارف ہونے کے بعد صارفین کی پرائیویسی اور ڈیٹا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچنے کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔
انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی بڑی امریکی کمپنی 'کامکاسٹ' نے اپنے راؤٹرز کے لیے ایک نیا اور جدید فیچر متعارف کرایا ہے جو گھر کے اندر موشن ڈیٹیکشن یا حرکات و سکنات کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد گھروں میں سیکیورٹی کو بہتر بنانا ہے، تاہم اس اعلان کے بعد ٹیکنالوجی کے ماہرین اور پرائیویسی کے علمبرداروں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ راؤٹر کے ذریعے گھر کے اندر کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنا صارفین کی نجی زندگی میں براہ راست مداخلت کے مترادف ہو سکتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے کام کرنے کا طریقہ کار ریڈیو فریکوئنسی لہروں پر مبنی ہے، جو راؤٹر سے خارج ہو کر دیواروں اور اشیاء سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں۔ جب کوئی شخص کمرے میں حرکت کرتا ہے تو یہ لہریں تبدیل ہو جاتی ہیں، جسے راؤٹر کے جدید سینسرز پہچان لیتے ہیں۔ کامکاسٹ کا کہنا ہے کہ یہ فیچر صارفین کی مرضی سے آن یا آف کیا جا سکتا ہے اور یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو گھر کی سیکیورٹی کے لیے مہنگے کیمرے نصب نہیں کر سکتے۔ کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ اس ڈیٹا کو محفوظ رکھا جائے گا اور اسے صارفین کی اجازت کے بغیر شیئر نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، سب سے اہم بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ آیا یہ ڈیٹا کبھی بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں یا پولیس کے ہاتھوں میں جا سکتا ہے؟ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ ٹیک کمپنیاں اکثر عدالتی احکامات یا وارنٹ کی صورت میں صارفین کا ڈیٹا حکام کے حوالے کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اگر کسی راؤٹر میں موشن ڈیٹیکشن کا فیچر فعال ہو تو وہ نہ صرف ایک انٹرنیٹ ڈیوائس بلکہ ایک 'ڈیجیٹل مخبر' کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے گھر کے اندر ہونے والی ہر ہلچل کا ریکارڈ حاصل کیا جا سکے گا۔ فی الحال، یہ سروس ایک 'آپٹ ان' (opt-in) فیچر ہے، یعنی صارفین جب تک خود اسے فعال نہیں کریں گے، یہ کام نہیں کرے گا۔ تاہم صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے سے پہلے اس کے پرائیویسی ایگریمنٹ کو بغور پڑھیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا دیگر بڑی کمپنیاں بھی اپنے راؤٹرز میں ایسی ہی ٹیکنالوجی متعارف کراتی ہیں یا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد کامکاسٹ کو اپنے اس منصوبے پر نظر ثانی کرنی پڑتی ہے۔