Pakistan
پاکستان کی نئی چار سالہ حج پالیسی 2027-2030 کا اعلان اور اہم خدوخال
وفاقی وزارتِ مذہبی امور نے 2027 سے 2030 تک کی پہلی جامع چار سالہ حج پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت عازمین دس فیصد ایڈوانس جمع کرا کے اپنی پسند کے سال کا انتخاب کر سکیں گے۔ اس نئی پالیسی کا مقصد حج کے انتظامات کو شفاف بنانا، ڈیجیٹل گورنمنٹ کا نفاذ اور طویل مدتی معاہدوں کے ذریعے اخراجات میں کمی لانا ہے۔
اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ مذہبی امور نے پاکستان کی تاریخ کی پہلی چار سالہ حج پالیسی (2027-2030) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت عازمینِ حج کو یہ تاریخی سہولت فراہم کی گئی ہے کہ وہ اپنی مالی استطاعت اور سہولت کے مطابق حج کے سال کا خود انتخاب کر سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے ملک میں ایک جدید رجسٹریشن اور ویٹنگ لسٹ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جہاں عازمین متوقع کل اخراجات کا دس فیصد حصہ جمع کروا کر اپنے پسندیدہ سال کے لیے سلاٹ محفوظ کر سکتے ہیں۔ یہ سلیکشن شفاف ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ کے ذریعے پہلے آئیں، پہلے پائیں۔ کی بنیاد پر کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی محض ایک سالہ انتظامات نہیں بلکہ حج کے پورے نظام میں بنیادی اور دیرپا اصلاحات کا نقطہ آغاز ہے۔
حکومت نے حج اخراجات کو کم کرنے اور سہولتوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی اپناتی ہوئی تین سے چار سالہ معاہدے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت سعودی عرب میں رہائش، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ، ہوائی سفر اور کارگو سروسز کے لیے طویل المدتی معاہدے کیے جائیں گے تاکہ اخراجات کو قابو میں رکھا جا سکے اور عازمین کو بہترین سہولیات میسر آئیں۔ وزیرِ مذہبی امور نے بتایا کہ رجسٹریشن سے لے کر شکایات کے ازالے اور پوسٹ حج ریویو تک کے تمام مراحل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری اور نجی حج سکیموں کے درمیان کوٹے کا تناسب 2030 تک ساٹھ اور چالیس فیصد برقرار رہے گا، تاہم حکومت بتدریج ریگولیٹری اور مانیٹرنگ کے کردار کی طرف منتقل ہو رہی ہے تاکہ نجی شعبے کی شمولیت کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام حج ادائیگیاں حکومت کے نامزد کردہ بینکنگ چینلز کے ذریعے ہی کی جائیں گی جبکہ پرائیویٹ حج کمپنیوں کے لیے بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ تمام بکنگز اور ادائیگیاں پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل کے ذریعے کریں۔ اس کے علاوہ حکومت نجی اور سرکاری دونوں حج انتظامات کے جائزے کے لیے ایک آزاد تھرڈ پارٹی کی خدمات بھی حاصل کرے گی تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہ رہے۔ عازمین کو کسی بھی مالی نقصان سے بچانے کے لیے حج کے اختتام پر بچ جانے والی رقوم فوری طور پر واپس کی جائیں گی اور ہنگامی حالات کے لیے حج پروٹیکٹر اسکیم بھی جاری رکھی جائے گی۔ وزیرِ مذہبی امور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ پالیسی سعودی ویژن 2030 اور بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہے جو پاکستان کے لاکھوں عازمینِ حج کے لیے سہولتوں کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔