World
مظفر گڑھ کے ویٹ لینڈز میں گلابی فلامنگو اور ان کے بچوں کی واپسی
جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں تقریباً پچاس سال کے طویل عرصے بعد گلابی فلامنگو پرندے اپنے بچوں کے ساتھ واپس لوٹ آئے ہیں۔ ماہرینِ حیاتیات کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پرندے اب مقامی سطح پر بھی افزائشِ نسل کر رہے ہیں۔
جولائی کی ایک گرم صبح محققین کا ایک گروہ جنوبی پنجاب کے وسیع و عریض ویٹ لینڈز میں وائلڈ لائف سروے کے لیے نکلا تو انہیں ایک حیرت انگیز اور خوشگوار تجربہ ہوا۔ مظفر گڑھ کے نواح میں واقع یہ دلدل اور جھیلیں سندھ دریا کے کناروں پر پھیلی ہوئی ہیں، جہاں ہجرت کرنے والے اور مقامی پرندے اکثر بسیرا کرتے ہیں۔ لیکن اس بار یہاں کا منظر بالکل مختلف اور تاریخی تھا، کیونکہ نصف صدی کے طویل عرصے کے بعد گلابی فلامنگو یعنی راہمحنس پرندے نہ صرف واپس آئے تھے بلکہ وہ اپنے ننھے بچوں کے ساتھ موجود تھے۔
محققین کے مطابق اس 43 رکنی فلامنگو کے ریوڑ میں بڑی تعداد ایسے نابالغ بچوں کی تھی جو بم مشکل چند ماہ کے ہوں گے۔ عام طور پر یہ خوبصورت پرندے سردیوں کے موسم میں وسطی ایشیا اور سائبیریا سے ہزاروں کلومیٹر کا طویل سفر طے کر کے پاکستان کے ساحلی علاقوں اور دلدلوں میں پناہ لیتے ہیں اور بہار آتے ہی واپس شمال کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ اتنے چھوٹے بچوں کے لیے اتنی طویل اور کٹھن پرواز ناممکن ہے، جس سے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ پرندے طویل فاصلے کے مہاجر نہیں بلکہ انہوں نے مقامی سطح پر ہی کسی محفوظ مقام پر افزائشِ نسل کی ہے۔
فلامنگو انتہائی حساس اور تنہائی پسند پرندے ہیں جو گھونسلے بنانے کے لیے پرسکون اور دشوار گزار نمکین جزیروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ مظفر گڑھ کے ان دلدلی علاقوں میں انہیں خوراک کے لیے وافر مقدار میں نمکین پانی کے کیڑے اور آرٹیمیا مل جاتا ہے، جو ان کی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس دریافت نے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے یہ آبی ذخائر مقامی حیات کے لیے کتنے اہم ہیں، جہاں انسانی مداخلت اور ماحولیاتی دباؤ کے باوجود قدرت اب بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔