Pakistan
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، حکومت کا اہم بیان
وفاقی وزیر نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو سابق وزیراعظم عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے کسی بھی فیصلے کے لیے قانونی طریقہ کار کی مکمل پیروی کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جیل سے ہسپتال منتقلی کا معاملہ ایک اہم بحث بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومتی وزراء کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر طبی بنیادوں پر ضرورت محسوس ہوئی تو سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنے کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ قیدی کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے انہیں طبی امداد فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، تاہم یہ عمل کسی بھی قسم کی قانونی خلاف ورزی کے بغیر مکمل کیا جائے گا۔
اس معاملے پر عدالتی سطح پر بھی کارروائی جاری ہے۔ مختلف عدالتوں نے جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ عمران خان کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم نے اس حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتال منتقلی میں تاخیر کی جا رہی ہے، جس کے لیے وہ توہینِ عدالت کی پٹیشن دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ ایک سابق وزیراعظم کے لیے طبی سہولیات کا حصول ان کا بنیادی حق ہے اور اس میں غیر ضروری تاخیر قانون کی حکمرانی پر سوالیہ نشان ہے۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اگر بیرون ملک علاج یا کسی نجی ہسپتال میں منتقلی کی ضرورت پیش آئی تو تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازم ہوں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ سمیت دیگر رہنماؤں نے اس معاملے کو عدالتی کارروائی اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹس سے مشروط قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قیدی کے لیے نجی ہسپتال کا انتخاب ایک قانونی سوال بھی ہے، لہذا میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے مطابق ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے پائے گا۔
عمران خان کے حامیوں اور پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے ان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اپنی اپنی قانونی اور سیاسی پوزیشن کو مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ فی الحال، معاملہ میڈیکل رپورٹس اور عدالتی احکامات کے گرد گھوم رہا ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی اس حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے آئے گی جس سے جیل میں قید سابق وزیراعظم کی طبی سہولیات کی صورتحال واضح ہو سکے گی۔