Pakistan
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 27 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 64 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر نافذ کر دیا گیا ہے جس سے صارفین پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر ردوبدل کا اعلان کیا ہے جس کے تحت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 27 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپیہ 64 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہیں جس کے بعد ملک بھر میں پیٹرولیم پمپوں پر قیمتوں کے نئے بورڈ آویزاں کر دیے گئے ہیں۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث حکومت کو یہ مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ گزشتہ ادوار میں ڈیزل کی قیمتوں میں کی جانے والی نمایاں کمی کے مقابلے میں حالیہ معمولی اضافہ ایک متوازن عمل معلوم ہوتا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ قیمتوں کا تعین فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے جس میں عالمی منڈی کے ریٹس اور مقامی کرنسی کی قدر کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس سے قبل ڈیزل کی قیمتوں میں کی جانے والی بڑی کمی کے بعد اب دوبارہ بڑھتی ہوئی قیمتیں عوامی حلقوں میں تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا براہ راست اثر نقل و حمل کے اخراجات پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ کا امکان رہتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا ماننا ہے کہ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر دباؤ پڑے گا، جس سے عام آدمی کا بجٹ متاثر ہوگا۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے قیمتوں کے تعین کے عمل کو شفاف بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے تاکہ صارفین کو بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق سہولت دی جا سکے۔
پاکستان کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عوام مسلسل مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور ہر پندرہ روز بعد قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ حکومت کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کے ڈھانچے میں ایسی اصلاحات لائے جس سے عام صارفین کو ریلیف مل سکے اور مہنگائی کی لہر کو قابو میں رکھا جا سکے۔