World
پاکستان کا امریکا اور ایران کے درمیان مصالحتی کردار: برازیل کی جانب سے تعریف
برازیل کے وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور مصالحت میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے عالمی امن کے قیام کے لیے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔
برازیل کے وزیر خارجہ نے حالیہ ملاقات کے دوران امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے ادا کیے جانے والے مثبت اور مصالحتی کردار کی بھرپور تعریف کی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے براہِ راست مذاکرات اور سفارتی کوششیں ہی واحد راستہ ہیں۔ برازیلین وزیر خارجہ نے پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ بین الاقوامی تنازعات میں پاکستان کا تعمیری کردار عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور برازیل کے وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی نشست میں مختلف دوطرفہ اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے خطرہ ہے، اس لیے ایسی کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں جو تناؤ کو کم کر سکیں۔ برازیلین وزیر خارجہ نے پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا جو وہ خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے کر رہا ہے۔
مزید برآں، ملاقات کے دوران مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ (Makkah Joint Defence Agreement) پر دستخط کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی، جس پر برازیل نے پاکستان کو مبارکباد دی۔ اس معاہدے کو مسلم دنیا کی دفاعی یکجہتی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں باہمی تعاون، تجارت اور سفارتی سطح پر اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے برازیل کا یہ مثبت ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے امن پسندانہ کردار کو اہمیت دے رہی ہے۔
اس دورے اور ملاقات نے پاکستان اور برازیل کے درمیان سفارتی ہم آہنگی کو ایک نئی جہت فراہم کی ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، وہیں برازیل جیسے اہم ممالک کے ساتھ شراکت داری سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط اور دفاعی تعاون کے مزید مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے جو دونوں اقوام کے مفاد میں ہوگا۔